خطبات محمود (جلد 1) — Page 316
۳۱۶ جو نہیں اب تم لوگوں کا کام ہے جو بعد میں آئے ہو ۔ ہمارا وقت گزر چکا ہوا ہے اب تمہارا وقت ہے کہ کام کرو حالانکہ نیکی کے وقت کی کوئی حد نہیں ہوتی کیونکہ اس کے بدلہ میں اللہ تعالٰی نے انعام دینا ہوتا ہے وہ غیر محدود ہے ۔ ۷ ۲ آریہ لوگ اسلام پر اعتراضات کرتے ہیں کہ محدود اعمال کے نتیجہ میں غیر محدود انعامات کس طرح حاصل ہو سکتے ہیں۔ ۲۸، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے اس کے جواب میں فرمایا ہے کہ چونکہ انسان کی نیت غیر محدود ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالی انعام بھی غیر غیرم محدود دیتا ہے۔ ۲۹ پس انسان کی نیت تو کم سے سے کم غیر محدود ہوئی ضروری ہے۔ کتنا ہی : کتنا ہی بیوقوف ہے وہ وہ انسان جو تھوڑی دیر نیکی کرنے کے بعد چھوڑ دیتا ہے حالانکہ اس کی محدود نیکی کے نتیجہ میں اسے غیر محدود انعامات حاصل ہونے والے تھے اور جو شخص غیر محدود انعامات کے باوجود محدود عمل بھی نہیں کرتا اس کی بیوقوفی میں کیا شک ہے۔ انسان کا عمل تو محدود ہی ہوتا ہے کم سے کم اس کی نیت تو غیر محدود ہونی چاہئے۔ بعض صوفی مشرب لوگوں نے اس مسئلہ کو غلط سمجھا ہے۔ ایک دفعہ ایک ایسا ہی شخص مجھے ملا اس نے کہا کہ میں نے کچھ سوال کرنا ہے۔ جمعہ کا روز تھا نماز کے بعد میں مسجد میں بیٹھ گیا اور کہا کہ سوال کریں۔ اس نے کہا کہ کوئی شخص اپنے دوسر دوست سے ملنے جائے ، ئے رستہ میں دریا : دریا ہو جسے کشتی میں بیٹھ کر عبور کرنا ہے کشتی میں بیٹھنے کے بعد جب کنارہ آجائے تو وہ کشتی کے اندر ہی بیٹھا رہے یا اثر پڑے۔ میں فورا سمجھ گیا کہ یہ اباحتی طریق کا آدمی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کو خدا مل گیا تو پھر اسے نماز روزہ کی کیا ضرورت ہے یہ تو محض سواریاں ہیں خدا تعالی تک پہنچنے کے لئے ۔ اللہ تعالیٰ نے فورا مجھے جواب سمجھایا اور میں نے کہا کہ آپ کی بات تو ٹھیک ہے اگر تو دریا محدود ہے اور اس کا کنارہ موجود ہے تو جب کنارہ آجائے چاہئے کہ فوراً کشتی سے اُتر پڑے لیکن اگر دیارِ غیر محدود ہو تو جہاں اُترا د ہیں ڈوبا اور اس کا پچھلا سفر سارا ضائع ہو جائے گا جہاں اس نے پانی پر قدم رکھا وہیں ڈوبے گا۔ میں نے کہا آپ فرمائیے جس دریا کا آپ ذکر کر رہے ہیں وہ محدود ہے یا غیر محدود۔ وہ مبہوت سا ہو گیا اور کہنے لگا کہ ہے تو ر محدود میں نے کہا پس پھر یقین رکھیں کہ کہ جہاں وہ شخص کشتی سے نیچے اُترا د ہیں ڈوبا۔ یہ کنارہ آجائے ۳۰ گا خیال صرف ایک وہم ہے۔ تو انسان خواہ سو سال بھی نمازیں پڑھتا رہے غیر رہ جب وہ یہ سمجھے گا کہ خدا مل گیا اب میں اس کشتی سے اترتا ہوں تو فور اڈوبے گا اور سو سال کی تمام نمازیں ضائع جائیں گی اس لئے جب اللہ تعالی کسی نیکی کی توفیق دے تو اسے چاہئے کہ اپنی