خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 315

۳۱۵ رہتا ہے اور مغز سے محروم رہ جاتا ہے جب میں حج پر گیا ۶ ، تو ایک شخص کو میں نے دیکھا جو منی کی طرف جاتے ہوئے بجائے دعا کے اردو کے نہایت ہی گندے اور عشقیہ اشعار پڑھ رہا۔تھا۔واپسی پر وہ اسی جہاز میں تھا جس میں میں تھا۔ایک روز میں ٹہل رہا تھا میں نے سنا وہ نہایت کو حسرت سے ہاتھ مار مار کر کہہ رہا تھا کہ خدایا یہ جہاز کیوں فرق نہیں ہو جاتا جس میں یہ شخص سوار ہے۔یہ خلافت سے قبل کا واقعہ ہے اسے جب معلوم ہوا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا ہوں اور یوں بھی میں تبلیغ کرتا رہتا تھا تو اس نے یہ فقرات زبان سے کہے۔ایک دوسرے موقع پر میں نے اسے کہا کہ آپ کو حج کی کیا ضرورت تھی جب کہ آپ منی کو جاتے ہوئے اردو کے نہایت گندے اور عشقیہ اشعار پڑھ رہے تھے۔اس نے جواب دیا کہ مجھے تو اس کی کوئی ضرورت نہ تھی بات صرف یہ ہے کہ ہمارے ساتھ میں جس شخص کی دکان ہے وہ حج کر آیا تو اس کی بکری بہت زیادہ ہونے لگی سب لوگ اسی سے سودا خریدنے لگے۔میرے باپ نے کہا کہ اس طرح تو ہماری دکان تباہ ہو جائے گی تم بھی جا کر حج کر آؤ تاہم بھی بورڈ پر حاجی کا لفظ لکھ سکیں۔تو جو شخص حج کے بعد خیال کرتا ہے کہ اس نے خدا تعالیٰ پر احسان کیا ہے زکوٰۃ اور دو سرے نیک اعمال کو بھی خدا تعالیٰ پر احسان سمجھتا ہے وہ کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔یہ ایسا ادنی درجہ کا خیال ہے کہ اس کے نتیجہ میں اس کے تمام اعمال اکارت چلے جاتے ہیں گویا تھے ہی نہیں۔پھر بعض دفعہ انسان کسی عمل کو مکمل بھی کر لیتا ہے مگر ایسے سامان پیدا ہو جاتے ہیں کہ اس کے لئے بعد میں ٹھوکر کی کوئی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔تو ایاک نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہی ایک ایسا ذریعہ ہے کہ جو انسانی کو ہر قسم کی ٹھوکروں اور غلطیوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ جب بھی انسان کو نیکی کا موقع دے اسے چاہئے کہ خدا تعالیٰ سے ہی اس کی تکمیل کی توفیق طلب کرے کیونکہ اس کے لئے قدم قدم پر ٹھوکر کا امکان ہوتا ہے۔ایک صحابی کے متعلق مجھے معلوم ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں وہ بہت جو شیلے تھے میں جب حج کے لئے گیا تو سفر میں ان کے پاس ٹھہرنے کا موقع ملا اور مجھے معلوم ہوا کہ وہ نماز بھی نہیں پڑھتے اور چندہ بھی نہیں دیتے۔میں نے ایک دوسرے دوست سے کہا کہ ان سے دریافت کریں کہ آپ اتنے بڑے اور پرانے صحابی ہیں یہ کیا بات ہے کہ نمازیں نہیں پڑھتے اور چندے وغیرہ نہیں دیتے۔انہوں نے پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بہت خدمات کی ہیں اب ہمیں ضرورت