خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 313

۳۱۳ ۲۳ رکھ لئے اور پتہ بھی نہ لگا لیکن جب یہ خیال آیا کہ اب تو بہت تھوڑے رہ گئے ہیں یہ تو پورے کر سکوں گا تو ایک بھی نہ رکھ سکا اور تکلیف بھی ایسی شروع ہوئی کہ روزہ رکھنا ممکن ہی نہ تھا۔یوں تو بیمار کو روزہ جائز نہیں مگر بعض مزمن امراض میں انسان رکھ بھی سکتا ہے مگر نقرس کا مرض ایسا ہے کہ اس میں بار بار پانی پینا ضروری ہوتا ہے تا وہ مادہ جو اس مرض کا موجب ہوتا ہے صاف ہو تا رہے۔تو یہ خدا تعالیٰ کے احسانوں میں سے ایک احسان ہوتا ہے کہ روزہ رکھنے یا نیکی کے کرنے کی توفیق حاصل ہو۔۲۴، پس اگر ہم نے روزے رکھے ہیں تو خود کوئی تکلیف نہیں اٹھائی بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا کہ نیکی کا موقع دیا۔اگر اس قسم کا خیال میرے دل میں آتا کہ روزوں کے ذریعہ دعا مانگوں تو اس طرح نہ کہتا بلکہ یوں کہتا کہ اے خدا ! تو نے ہمیں توفیق دی کہ روزے رکھ سکیں اب تو اپنے اس فضل کو مکمل کر دے۔خدایا ! اس سارے مہینہ میں تو نے ہم پر فضل کیا ہے اب عید کو ہمارے لئے مکمل کر کے اپنے فضل کو مکمل کر دے۔اس شخص نے دعا کا یہ رنگ تو اچھا نکالا تھا مگر قلتِ تدبر کی وجہ سے اسے شکل بری دے دی۔اگر بجائے یوں کہنے کے کہ ہم نے کس طرح تکلیف اٹھا کر روزے رکھے ہیں وہ دوست یوں کہتے کہ اے اللہ ! تو نے کتنا فضل کیا ہے کہ روزے رکھنے کی توفیق عطا کی ہے مگر اب اس فضل کو ادھورانہ رکھیوا سے مکمل کر کے ہمیں عید بھی دکھا دے تو کیسی خوبصورت دعا ہو جاتی۔مومن کے اعمال اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ماتحت ہوتے ہیں اس کے بغیر وہ ان کو مکمل نہیں کر سکتا۔مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اول تو کسی کام کی تکمیل کے لئے ساری شرائط کا علم ہونا نا ممکن ہے اور اگر علم ہو تو بھی تشویش کے کئی ایسے سامان موجود رہتے ہیں کہ نقص کا امکان ہر وقت رہتا ہے پس انسان کو کبھی اپنی نمازوں ، روزوں یا نیکیوں پر غرور نہیں کرتا چاہئے۔ذرا غور کرو کیا کیفیت ہو گی اس شخص کی جو رسول کریم میں یوں کی وحی لکھا کرتا تھا۔کس طرح دو سرے صحابہ اس کی حیثیت پر رشک کرتے ہوں گے کہ آنحضرت ملی و سفر و حضر میں اسے ساتھ رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا کلام سننے کا سب سے پہلے اسے موقع ملتا۔رسول کریم میل اللہ کی وحی تو نہایت ہی شاندار چیز ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وحی کے متعلق یہ کیفیت تھی کہ احمدی دن چڑھتے ہی عاشقوں کی طرح ادھر ادھر دوڑنے لگتے تھے کہ معلوم کریں حضور کو رات کیا وحی ہوئی ہے۔ادھر میں نکلا اور مجھ سے پوچھنے لگے یا کوئی اور بچہ نکلا تو اس سے دریافت کرنے لگے کہ آج کی تازہ وحی کیا ہے آپ کو کیا الہام ہوا ہے اور ہماری