خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 312

ہوئے۔۲۲ جماعت نے ایک حد تک ان کا مقابلہ بھی کیا۔میں نے بھی جواب دیئے مگر آخر معاملہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیا۔اتنا زور نہیں دیا جتنا کہ دشمن چاہتا تھا یا بعض کمزور احمدی چاہتے تھے۔کئی لوگوں نے مجھے کہا کہ نتیجہ بڑا ہو گا۔مگر میں نے کہا کہ جو بھی ہو یہ خدا تعالیٰ کی جماعت ہے، وہ خود اسے سنبھالے گا۔مجھے اس کی طرف سے یہی حکم ہے کہ جماعت کی ترقی کی طرف توجہ رکھوں۔بسا اوقات ان فتنوں نے نہایت بھیانک شکلیں اختیار کیں مگر آخر کار وہ اپنی موت مر گئے اور جس طرح ایک چوہا اپنے بل کے اندر ہی مرجاتا ہے اور باہر کسی کو پتہ بھی نہیں ہو تا کہ کیا ہوا یہی حال آج ان فتنوں کا نظر آ رہا ہے۔تو اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُی دراصل وہ مقام ہے کہ اگر انسان صحیح طور پر اسے اختیار کرے تو کامیاب ہو سکتا ہے ورنہ نہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ اپنی نمازوں اور روزوں پر مغرور ہو جاتے ہیں جو ٹھیک نہیں۔کل ہی دعا کے موقع پر کسی شخص کی آواز میرے کان میں آئی جو کہہ رہا تھا کہ اے خدا! تو جانتا ہے کہ ہم نے کس طرح تکالیف اٹھا کر تیرے لئے روزے رکھے ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل میں مومن تکلیف محسوس نہیں کرتا۔بے شک اسے جسمانی طور پر کچھ تکلیف بھی ہوتی ہے مگر وہ اس کا احساس نہیں کرتا وہ تو انتہائی تکلیف خدا تعالیٰ کے راستہ میں اٹھا کر بھی شرمندہ ہوتا ہے کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔اور یوں بھی اگر دیکھا جائے تو ہم نے خدا تعالٰی کے لئے کیا تکلیف اٹھائی ہے۔ہزاروں لوگ ایسے ہیں جن کو روٹی ملتی نہیں اور وہ فاقہ پر مجبور ہوتے ہیں لیکن جسے ملتی ہے وہ اگر روزہ رکھ کر یہ کہے کہ اس نے تکالیف اٹھا کر رکھا ہے تو وہ خدا تعالی کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی ہزاروں راہیں ہیں یہ کیا ضروری ہے کہ مانگنے کے لئے انسان بے ادبی کا طریق اختیار کرے اور اس طرح اپنے لئے اس کے فضلوں کے دروازے بند کرلے۔یاد رکھو کہ روزے رکھنے کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ملتی ہے۔میں ہمیشہ بیمار رہتا ہوں اس سال تو میں نے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب سے کہا کہ اب کے تو میری صحت اتنی گری ہوئی ہے کہ شاید روزے نہ رکھ سکوں۔۲۳، مگر جب رمضان شروع ہوا تو میں ۲۳ روزے مسلسل رکھتا چلا گیا سوائے ایک کے کہ اس روز مجھے لاہور جانا پڑا اور مجھے پتہ بھی نہ لگا کہ روزے رکھ رہا ہوں۔تب میں نے خیال کیا کہ اب تو رمضان پورا ہو گیا اور باقی روزے بھی میں رکھ سکوں گا اور اس کے معابعد میں ایسا بیمار ہوا کہ پھر ایک بھی نہ رکھ سکا۔تو جب میں سمجھتا تھا کہ ایک بھی روزہ نہیں رکھ سکوں گا اس وقت تو