خطبات محمود (جلد 1) — Page 282
۲۸۲ دوسرے کنارہ پر پہنچی تو بغیر وہ جگہ دیکھنے کے جہاں بادشاہ مقبرہ بنوانا چاہتا تھا وہ انجنیر کہنے لگا بادشاہ سلامت! اب مقبرہ بن جائے گا۔وہ کہنے لگا تم نے جگہ تو دیکھی نہیں۔اس نے کہا میں صرف آپ کے حوصلہ کا امتحان لینا چاہتا تھا اور میں نے دیکھ لیا کہ دو لاکھ روپیہ کے غرق ہو جانے کے باوجود آپ کے ماتھے پر بل تک نہیں آیا۔پس میں سمجھ گیا ہوں کہ جو شخص دو لاکھ روپیہ اس طرح غرق کرا سکتا ہے وہ مقبرہ پر کئی کروڑ روپیہ بھی خرچ کر سکتا ہے۔یہ بھی اسی بات کی مثال ہے کہ دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو قربانیاں کرتے ہیں۔بادشاہ نے یہ دیکھ کر کہا باقی انجنیئر بڑے نالائق تھے جو کہتے تھے کہ ایسا مقبرہ نہیں بن سکتا۔وہ کہنے لگا حضور وہ نالائق نہیں تھے انہوں نے حضور کے حوصلے کا امتحان لئے بغیر ہی خیال کر لیا تھا کہ پچاس ساتھ کروڑ روپیہ آپ کہاں مقبرہ پر خرچ کریں گے مگر میں نے آپ کا امتحان لے کر یقین کر لیا ہے کہ آپ اس قدر روپیہ خرچ کر دیں گے اگر وہ بھی امتحان لیتے تو ان میں بھی بڑے بڑے لائق انجنیئر تھے اور وہ اس قسم کا مقبرہ بنا سکتے تھے۔کلہ تو اس واقعہ میں بھی یہ نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ جس قوم کے افراد قومی ترقی کے لئے قربانیاں کرتے ہیں وہ قوم دنیا پر غالب آکر رہتی ہے لیکن جس قوم کے افراد اس نکتہ کو فراموش کر دیتے ہیں وہ ہار جاتی ہے۔تم میں سے ہر شخص جو یہ خیال کرتا ہے کہ میں اس وقت قربانیوں میں حصہ لوں گا جب مجھے یقین ہو کہ عید میں اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا اس سے زیادہ احمق اور اس سے زیادہ بے وقوف اور کوئی نہیں اور اسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی قوم کبھی جیت نہیں سکتی۔قوم اسی وقت جیت سکتی ہے جب ہر فرد یہ سمجھ لے کہ مجھے عید چاہے میسر آئے یا نہ آئے چاہے میں روزوں میں ہی مر جاؤں یا زندہ رہوں مجھے اس کی پروا نہیں اگر میری قوم کو عید مل گئی تو میں سمجھ لوں گا کہ مجھے بھی عید مل گئی۔اس صورت میں یقینا تمہاری ترقی میں کوئی شبہ نہیں اور پھر کسی اور کے ہاتھ سے کیا خدا تمہارے ہاتھوں پر ہی اسلام کو فتح دے گا کیونکہ تم اس فتح کے اول مستحق ہو اور تم نے ایک نبی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ہے۔آخر خدا نے اپنا کام کرنا ہے اور اس نے اسلام کو دنیا پر غالب کرتا ہے۔یہ وہ فیصلہ ہے جو ہو چکا اور جس میں کسی قسم کا تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا لیکن اگر تم اس نقطہ نگاہ کو سمجھ لو گے جو میں نے بتایا ہے تو پھر ہمیں فتح حاصل ہوگی اور اگر اس نقطہ نگاہ کو نہیں سمجھو گے تو یا تو فتح سے محروم ہو جاؤ گے اور یا پھر مرتد ہو کر مرد گے اور قوم کی فتح کی خوشی تمہیں نصیب نہیں ہوگی۔لیکن اگر تم اس نقطہ نگاہ کو سمجھ لو گے اور تم میں سے ہر شخص