خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 276

حاصل ہوئی ہے یا نہیں اور جب اسے فتح حاصل ہو جاتی ہے تو وہ اپنی ہر قربانی بے حقیقت سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو ایک عضو تھے اگر ایک عضو نہیں رہا تو کیا ہوا جسم نے تو فتح پائی ہے۔غرض وہ لوگ جو قومی زندگی میں شریک ہوتے ہیں وہ یہ احساس کرنے لگ جاتے ہیں کہ ہمارے دو وجود ہیں ایک فردی جو ادنی ہے اور ایک قومی جو اعلیٰ ہے۔ہم قومی وجود کے مقابلہ میں ایسے ہی ہیں جیسے جسم کے مقابلہ میں کوئی عضو - ہم آدمی نہیں بلکہ آدمی کے کان ہیں ، ہم آدمی کے ہاتھ ہیں ، ہم آدمی کا ناک ہیں اور ہم آدمی کا دل و دماغ اور جگر ہیں اگر ہم سارے کے سارے بھی اپنے جسم کو بچانے کے لئے کٹ جاتے ہیں تو ہم کوئی قربانی نہیں کرتے کیونکہ جسم کے بچ جانے کے بعد عزت بہر حال ہماری ہوگی۔یہ شعور جس قوم میں پیدا ہو جاتا ہے وہی کچی قربانی کرتی ہے۔پس روزوں نے تمثیلی زبان میں ہمیں یہ نظارہ دکھایا ہے کہ لوگ سارے روزے کھتے ہیں مگر عید بعض کو میسر آتی ہے اور بعض کو نہیں آتی۔کچھ عید سے پہلے چل بستے ہیں، کچھ پہلے روزے کے بعد کچھ دوسرے روزے کے بعد کچھ پندرھویں روزے کے بعد کچھ اٹھا ئیسویں یا انتیسویں روزے کے بعد اور کوئی نہیں کہتا کہ روزے رائیگاں گئے کیونکہ قوم کو عید بہر حال مل گئی۔یہ تمثیلی اثر ہے جو ذہنوں پر رمضان نے پیدا کیا مگر کم لوگ ان باتوں کو دیکھتے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے حکمت پر کبھی غور نہیں کیا ہوتا اور چونکہ وہ غور کرنے کے عادی نہیں ہوتے اسی لئے وہ فائدہ بھی نہیں اٹھاتے۔پس آج میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اپنی قربانیوں کی طرف کبھی اس نقطۂ نگاہ سے خیال نہ کرو کہ ان سے اس فرد کو فائدہ پہنچے گا جس نے قربانی کی۔قربانیاں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک فردی اور ایک قومی۔فردی قربانیاں فرد کی زندگی کو چاہتی ہیں مگر قومی قربانیاں قوم کی زندگی کو چاہتی ہیں۔جیسا کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ہماری ایک قوم بنا دیتی ہے جو احمدیت ہے۔پس ہمیں اس نقطہ نگاہ سے اپنی قربانیوں کو نہیں دیکھنا چاہئے کہ ہمیں ان قربانیوں سے اپنی زندگیوں میں کیا فائدہ ہوگا بلکہ ہمیں اس نقطہ نگاہ سے دیکھنا چاہئے کہ میں احمدیت کا فرد ہوں اور اگر مجھے عید کا دن دیکھنا نصیب نہ ہوا لیکن میری قوم نے دیکھ لیا تو وہ عید گویا مجھے ہی مل گئی۔حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید نے احمدیت کے لئے اپنی جان دی ان کی شہادت ۱۹۰۳ء میں ہوئی ان کے بھی اس وقت بچے تھے بلکہ کئی بچے بعد میں بالغ ہوئے بلکہ اگر میں غلطی نہیں کرتا تو ان کا ایک بچہ ان کی شہادت کے بعد پیدا ہوا۔لے پس کیا ہے