خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 270

کرتی ہے لیکن یہ موجودہ زمانہ کی زبان ہے۔ابتداء میں جب ابھی یہ زبان ایجاد نہیں ہوئی تھی جب ماں نے اپنے بچے سے یہ کہنا ہوتا کہ تو مجھے پیارا ہے تو وہ اسے چومتی تھی اور اس کا بیٹا سمجھتا تھا کہ میری ماں مجھ سے پیار کر رہی ہے لیکن اب اس زمانہ کی یاد گار صرف چومنا رہ گیا ہے ورنہ اظہار محبت کے بہت سے الفاظ پیدا کر لئے گئے ہیں۔پس تمثیلی زبان پرانی ہے اور لفظی زبان نئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تمثیلی زبان کا عوام الناس پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے۔چنانچہ بعض دوستوں نے بتایا کہ ڈیرہ غازیخاں میں کسی کو کتنی گالیاں دے لی جائیں وہ ان کو برداشت کرتا چلا جائے گا لیکن اگر اسے جوتی اٹھا کر دکھا دو تو قتل تک نوبت پہنچ جاتی ہے حالانکہ گالیوں کے مقابلہ میں جوتی دکھانا زیادہ اہم نہیں لیکن وہاں جوتی کا تلا دکھا دینا خونریزی پیدا کرنے والی بات ہو جاتی ہے۔غرض تمثیلات کا اثر انسانی زندگی پر بہت گہرا ہوتا ہے۔اسلام نے بھی اس اثر کو ایک رنگ میں ظاہر کیا ہے لیکن اسلام میں اور دوسرے مذاہب میں ایک فرق ہے دوسرے مذاہب تمثیل ایسے رنگ میں دکھاتے ہیں جب وہ کھیل اور تمسخر ہوتی ہے مگر اسلام نے اسے ایسے رنگ میں لیا ہے جب وہ کھیل اور تمسخر نہیں بلکہ حقیقت ہوتی ہے۔شاید تمہارے لئے یہ بات بغیر مثال کے سمجھنی مشکل ہو اس لئے میں اس کی وضاحت کے لئے ایک مثال دے دیتا ہوں۔اگر کسی سنگدل کو یہ بتانا ہو کہ محبت بنی نوع انسان سے کیا قربانی کرواتی ہے تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک تھیئیٹر بنا دیا جائے اور اس پر ایک اجنبی جس کا دوسرے سے کوئی رشتہ نہیں باپ بن جائے اور ایک شخص جس کا اس سے کوئی رشتہ نہ ہو بیٹا بن جائے اور یہ دکھایا جائے کہ بیٹا چار پائی پر بیمار لیٹا ہے اور مصنوعی باپ اسے دوائی پلا رہا ہے اور اس کی بیماری کے درد سے متاثر ہو کر روتا جا رہا ہے۔لیکن دوسری صورت یہ ہے کہ بجائے مصنوعی تماشہ دیکھنے کے کوئی شخص دریافت کرے کہ شہر میں کوئی بیمار ہے یا نہیں اور جب اسے کسی بیمار کا حال معلوم ہو تو وہ اس کے حال کے دریافت کے لئے اس کے گھر جائے اور دیکھے کہ اس بیمار بچے کے ماں باپ کا کیا حال ہے اور ان کی غم کے مارے کیا کیفیت ہے۔اب پہلے نے بھی تمثیلی زبان میں ایک نظارہ دکھایا اور دوسرے نے بھی لیکن پہلے نے جو کچھ دکھایا وہ محض تماشہ تھا لیکن دوسری جگہ اسے جو کچھ نظر آیا وہ حقیقت تھی۔پہلے نظارہ کے دیکھنے سے جہاں انسانی طبیعت پر ایک اچھا اثر پڑتا ہے وہاں اندرونی طور پر یہ بھی اثر پڑتا ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ جذبات سے بھی راق کیا جا سکتا ہے۔جب ہم جانتے ہیں کہ ایک شخص باپ نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ایک۔