خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 267

۲۶۷ (۲۷) ( فرموده ۵- دسمبر۷ ۱۹۳ء بمقام عید گاہ۔قادیان) دنیا میں یہ ضرورت ساری قوموں میں محسوس کی گئی ہے اور سارے ملکوں میں محسوس کی گئی ہے کہ زبانی وعظ اور تذکیر جہاں بہت سے لوگوں پر اثر کرتا اور ان کے دلوں میں تغیر پیدا کر دیتا ہے وہاں ایک طبقہ انسانوں کا ایسا بھی ہوتا ہے جو زبانی وعظ و تذکیر سے نصیحت حاصل نہیں کرتا اور وہ بعض اور ذرائع کا محتاج ہوتا ہے جو مُردہ قلوب میں زندگی اور جامد خیالات میں حرکت پیدا کریں۔اس کے لئے دنیا نے کئی قسم کی ایجادیں کی ہیں۔کہیں وعظ کو نثر سے لے کر شعر میں بدل دیا ہے ، کہیں شعر سے ڈرامے کی صورت میں بدل دیا۔پھر جب دیکھا ہے کہ اس کا بھی پورا اثر نہیں ہو تا تو لفظی ڈرامے کو تمثیلی ڈرامے میں تبدیل کر دیا ہے۔ایک اسٹیج بنا دیا جاتا ہے اور اس پر مختلف قسم کے لوگ آتے ہیں۔کوئی بادشاہ بن جاتا ہے کوئی وزیر بن جاتا کوئی حاجب بن جاتا ہے کوئی مسخرہ بن جاتا ہے، کوئی تاجر بن جاتا ہے، کوئی بیچنے والا بن جاتا ہے، کوئی خریدار بن جاتا ہے، کوئی حاسد بن جاتا ہے، کوئی محسود بن جاتا ہے ، کوئی عاشق بن جاتا ہے، کوئی معشوق بن جاتا ہے غرض مختلف شکلوں میں وہ انسانی جذبات کو ممثل کرتے ہیں یعنی ایکٹ کر کے دکھاتے اور نقل اتارتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نقل دنیا میں بہترین اثر کرنے والی چیز ہے اور اس اثر کو اتنا وسیع قبول کیا گیا ہے کہ اس زمانہ میں اس کو ترقی کا واحد ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔چنانچہ گورنمنٹوں نے اب اپنے تمثیل خانے بنائے ہوئے ہیں جن میں ایکٹ کیا جاتا ہے پھر ان کی فلم کی جاتی ہے اور وہ فلم مختلف تھیئیٹروں سے لوگوں کو دکھائی جاتی ہے۔روس کی تمام ترقی اور جدوجہد کی بنیاد ہی تمثیلات ایکٹنگ اور تھیئیٹر پر ہے۔مذہب کے خلاف بھی وہ اس سے پروپیگنڈا کرتے ہیں ، سیاسیات کے متعلق بھی وہ اس سے پرو پیگنڈا کرتے ہیں اور دنیا کے تمدنی اور اقتصادی حالات کے متعلق اپنی تدابیر کی تائید میں بھی وہ اس سے پروپیگنڈا کرتے ہیں۔فلسفے کے باریک نکتے جب کتابوں میں ہوتے ہیں تو ان کے سمجھنے کے لئے عالم دماغوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہی سکتے جب تھیئیٹر کی سٹیج پر آ جاتے