خطبات محمود (جلد 1) — Page 260
میں تو لوگوں کی یہ عادت ہے کہ انہیں جتنی جتنی طاقت ملتی ہے اتنا ہی وہ کھانے پینے اور پہننے کے عمل کو زیادہ کرتے جاتے ہیں کم نہیں کرتے۔چنانچہ دیکھ لو ایک طاقتور آدمی اپنی روٹی کم نہیں کرتا بلکہ اپنی سابقہ نسبت سے زیادہ کر دیتا ہے یا جب آدمی مالدار ہو جائے تو اپنے کپڑوں کی تعداد کم نہیں کر دیتا بلکہ زیادہ کر دیتا ہے مگر روحانیات میں لوگ چاہتے ہیں کہ ان کی غذا کم ہو جائے حالانکہ روحانیت رکھنے والے افراد بھی جوں جوں انہیں روحانی طاقت حاصل ہوتی ہے اپنی روحانی غذا کو زیادہ کرتے جاتے ہیں کم نہیں کرتے۔ایک پہلو ان کی غذا اور بچہ کی غذا میں کیا فرق ہے یہی کہ بچہ کم کھاتا ہے اور پہلوان زیادہ کھاتا ہے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں وہ روحانی پہلوان ہونے کا دعویٰ تو کر دیں مگر اپنی غذا بچے والی رکھیں۔کیا تم نے کبھی دیکھا کہ کسی پہلوان نے چوسنی سے دودھ پینا شروع کر دیا ہو اور وہ یہ کہتا ہو کہ اب چونکہ میں پہلوان ہو گیا ہوں اس لئے میں چوسنی سے دودھ پیتا ہوں۔جب نہیں بلکہ دنیا کے جسم کے معاملہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ پہلوان اور بچہ کی کیا نسبت ہے تو روحانی معاملات میں لکھی کی طرف آنا بھی کسی روحانی آدمی کا کام نہیں ہو سکتا۔تم نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا کہ ایک مضبوط پہلوان یہ کہے کہ ایک دودھ کی کٹوری مجھے میر کرنے کے لئے کافی ہے۔سیر بھر دودھ اور دوسری مقوی غذاؤں کی مجھے ضرورت نہیں۔مگر روحانی معاملہ میں جہاں انسان پر ذرا سا بھی الہی فیضان نازل ہو وہ کمزوری دکھانا شروع کر دیتا ہے اور کہتا ہے اب مجھے ان مجاہدات کی کیا ضرورت ہے ایسا خیال جنون کی علامت تو ہو سکتا ہے مگر عقل کی علامت نہیں کہلا سکتا۔غرض عمل کسی صورت میں ترک نہیں کیا جا سکتا نہ اس دنیا میں نہ اگلے جہان میں فرق صرف یہ ہے کہ اگلے جہان جو مومن کی مستقل عید ہوگی اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اب یہ انعام ضائع نہیں ہو سکتا ورنہ کام اس جگہ بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔آخر عید کے دن خدا تعالٰی نے کوئی نماز معاف تو نہیں کر دی بلکہ ایک نماز اس نے زائد کر دی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اسلامی اور روحانی عید کام چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ کام میں زیادتی کرنے کا نام ہے۔غرض عمل کسی صورت میں نہیں چھوڑا جا سکتا نہ اس جہان میں نہ اگلے جہان میں۔ہاں انعام مستقل ہو سکتا ہے اور وہ کبھی اس دنیا میں بھی مستقل طور پر انسان کو حاصل ہو جاتا ہے۔جو لوگ اس دنیا میں زندہ رہتے ہوئے مرجاتے ہیں ان کا انعام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مستقل ہو جاتا ہے گویا ایسے لوگوں پر اسی دنیا میں يَوْمَ الْبَعْث آجاتا ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ