خطبات محمود (جلد 1) — Page 25
۲۵ حالت میں ہیں لیکن باتیں کیا کرتے ہیں اور جب یہ باتیں کر کے اٹھتے ہیں تو سب کو بھگا دیتے ہیں ۲۲۔اس مؤرخ کو یہ واقعہ لکھ کر بڑا مزا آیا۔لیکن مجھے اس کی تحریر سے مزا آیا کہ گو ایک دو سرے مذہب کا ہے مگر اس کا دل گواہی دے رہا ہے کہ ان لوگوں میں ایسی قوتیں اور طاقتیں تھیں جو اور کسی قوم میں نظر نہیں آتیں۔پس عید جو ہوا کرتی ہے دل کی خوشی ہوتی ہے۔یہ جو بناوٹی عیدیں ہیں گو ایک حد تک فائدہ دیتی ہیں مگر عید وہی ہے جو دل کی خوشی کی ہو۔اور دل کی خوشی اطمینان قلب کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔اور دل کا اطمینان سوائے اس کے نہیں ہو سکتا کہ خوف نہ ہو۔اور خوف سے اُس وقت تک انسان محفوظ نہیں ہو سکتا جب تک یہ یقین نہ ہو کہ میرا ایسا پہرہ دار ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اور وہ پہرہ دار خدا کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔اس لئے حقیقی عید یہی ہے کہ انسان کو یقین ہو جائے کہ اللہ مجھ سے راضی ہو گیا ہے۔یہ عید میں نمائش اور نمونہ کے طور پر ہیں۔ان سے وہ کچی عید حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو کسی وقت انسان سے جدا نہیں ہوتی۔نہ دن کو نہ رات کو نہ اٹھتے نہ بیٹھتے نہ سوتے نہ جاگتے۔جس کو عید نصیب ہو جائے اس کی نسبت بچے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ :۔وہ ہر روز روز عید است و هر شب شب برات ایسے انسان کی حالت ہر وقت خوشی ، یقین اور اطمینان کی ہوتی ہے۔ہمارے لئے بھی یہی سچی عید ہے۔پہلوں کے لئے بھی یہی تھی۔اور بعد میں آنے والوں کے لئے بھی یہی ہوگی۔خدا تعالٰی ہمارے لئے پہلوں کی طرح ہی کرے اور ہماری کمزوریوں کو دور کر دے۔ورنہ جب تک حقیقی عید نہ آئے یہ عیدیں اسی طرح کی ہیں۔جس طرح کسی بیمار کو عارضی طور پر آرام دینے کیلئے کو کین دی جائے۔کیونکہ حقیقی خوشی تب ہی حاصل ہو سکتی ہے جب کہ حقیقی رنج ڈور ہو اور یہ دُور ہو نہیں سکتا۔جب تک اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ خدا میرے ساتھ ہے۔خدا تعالیٰ ہماری کمزوریوں، دکھوں، لڑائی جھگڑوں اور فسادوں کو دور کر کے حقیقی عید کرائے۔تا ہمارے لئے ہر وقت عید ہو اور وہ غم جو خوشی کو دُور اور کمروں کو چور کر دینے والے ہیں ان کو دفع کر کے ہمارے لئے ہر گھڑی عید ، بچی راحت اور آرام مہیا کر دے۔آمین (الفضل ۲۲۔اگست ۱۹۱۵ء) اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۱۷ روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۱