خطبات محمود (جلد 1) — Page 246
الحرام ما عقل اور فراست پیدا کریں اور بوڑھے جوانوں والی ہمت۔مرد عورتوں والا استقلال اور ایثار پیدا کریں اور عورتیں مردوں والی جرأت اور دلیری اور اقدام پیدا کریں۔علم والے جب جاہلوں کی طرح خدا کے در پر نہ گر جائیں، کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔اور جاہل جب تک یہ نہ سمجھ لیں کہ ایمان کی روشنی کے بعد دنیوی علوم کی کیا حقیقت ہے اور یہ ان کے رستہ میں حائل نہیں ہو سکتے اس وقت تک ترقی محال ہے۔یہ حالت پیدا کرو پھر دیکھو دو چار سال کے ہی قلیل عرصہ میں تم کس طرح دنیا کو تہ و بالا کرتے ہو مگر ضرورت عمل کی ہے مونہہ کی باتوں سے کچھ نہیں بنتا۔مساوات عمل سے قائم ہوتی ہے اور جس دن ہم یہ باتیں اپنے اندر پیدا کر لیں پھر حقیقت میں ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ عید ہے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ ہزار پانچ سو آدمی بھی اگر مرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔اتنے نہیں اگر دس بلکہ ایک ہی ہو جائے تو بھی اسے کوئی نہیں مار سکتا۔حقیقی موت کا پیالہ چکھنے والی انبیاء کی جماعتیں ہوتی ہیں۔اور دنیا ان کو مارنے کے لئے کتنا زور لگائے نہیں مار سکتی۔بتاؤ کبھی کسی نبی کی جماعت کو کسی نے ہے کبھی کوئی نبی مرا ہے نہیں بلکہ انہوں نے ہمیشہ کی زندگی پائی ہے اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔پس حقیقی زندگی کے لئے موت کا پیالہ چکھنا ضروری ہے۔جو ان آدمی کے نفس میں شوخی اور شرارت ہوتی ہے۔اسے مار کر بڑھاپا پیدا کرنا اور اسی طرح بڑھاپے کو مار کر جوانی پیدا کرنا موت ہے۔مرد کی موت یہ ہے کہ عورت والا استقلال اور ایثار اپنے اندر پیدا کرے اور عورت کی یہ ہے کہ مرد والی جرأت اور اقدام پیدا کرے۔اسی طرح غریب کی موت یہ ہے کہ اپنے کو امیر سمجھے کنگال ہونے کے باوجود حوصلہ بلند رکھنا گویا غربت کے وجود کو مار دینا ہے اور امیر کے لئے اپنی امارت پر گھمنڈ نہ کرنا اور دل میں غربت پیدا کرنا موت ہے۔اور یہ موتیں اگر اپنے اوپر وارد کرلی جائیں تو جماعت کامیاب ہو سکتی ہے۔اس کے لئے کسی بڑی قربانی کی ضرورت نہیں صرف نیت کی ضرورت ہے۔اسی منٹ میں اگر نیت کر لی جائے تو جو ان بوڑھا بن سکتا ہے اور بوڑھا جو ان۔مرد عورت بن سکتی ہے اور عورت مرد۔صرف ارادہ کی دیر ہے اور پھر سمجھ لو کہ حقیقی عید دروازہ پر کھڑی ہے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں بچے اور مخلص مومن بننے کی توفیق دے ہمارے درمیان سے تمام امتیازات کو مٹا کر ہم کو ایک کر دے۔ہم كَانَّهُمْ بُنْيَانُ مرصوص ال کی طرح ہو کر خدا کی خدمت میں لگ جائیں۔اور اللہ تعالی ہمارے ہاتھوں