خطبات محمود (جلد 1) — Page 245
۲۴۵ گئیں اُس وقت ان کی عمر ۱۳ سال کی تھی۔ساہ اور وہ خود بیمار تھے اور جلد فوت ہو گئے۔اس وقت بھی وہ کہتے تھے کہ میری شادی کرا دو کیونکہ رسول کریم ملی وسلم نے فرمایا ہے کہ جو مجرد ہو اس کی عمر گویا ضائع ہو گئی۔۱۸ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس عمر میں بھی اپنے آپ کو بوڑھا نہیں سمجھتے تھے بلکہ یہی خیال کرتے تھے کہ میں جوان ہوں۔اور دوسری طرف ہم ہیں کہ جوان بڑھاپے والا طریق اختیار کرتے اور دین کے لئے اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتے تھے۔رسول کریم میلی لی لی لی نے اپنے کنبہ والوں کی دعوت کر کے ان کو تبلیغ کی اور آخر میں کہا کہ کوئی ہے جو خدا کی بات سنے اور اس کے دین کی مدد کرے۔وہ لوگ سب مخالف تھے اس لئے چپ چاپ بیٹھے رہے بلکہ ممکن ہے ان کے چہروں پر حقارت اور غصہ کے آثار بھی ہوں۔اُس وقت حضرت علی کی عمر صرف گیارہ سال تھی مگر آپ کھڑے ہو گئے اور کہا میں ہوں۔آپ وقت اگر چہ بچہ تھے مگر خیال کرتے تھے کہ میں اسلام کی ذمہ داریاں برداشت کرنے کے قابل ہوں۔19۔اس وقت بھی آپ میں گویا بوڑھوں والی فراست تھی۔دوسری طرف انس ۱۱۳ سال کے تھے مگر سولہ سترہ سال کے بچے کی طرح اپنے آپ کو شادی کے قابل سمجھتے تھے اور یہی حقیقی مساوات ہے۔ورنہ اس کے سوا اور کس طرح مساوات قائم ہو سکتی ہے اور اگر قائم کر بھی دی جائے تو وہ قائم کہاں رہ سکتی ہے۔سب کو مکان غذا لباس اور دولت تو یکساں بانٹی جا سکتی ہے مگر عقل ، علم اور ذہن کون بانٹ سکتا ہے۔پس مساوات اتحاد باطنی سے ہی قائم ہو سکتی ہے۔بوڑھے اپنے اندر یہ عزم پیدا کریں کہ آخر دم تک لڑیں گے۔حضرت خالد بن ولید جب فوت ہونے لگے تو بے اختیار رو ر ہے تھے۔آپ کے دوستوں نے کہا کہ آپ کو تو خوش ہونا چاہئے کہ آپ اپنے رب کے پاس انعام لینے جاتے ہیں۔مگر آپ نے کہا یہ ٹھیک ہے مگر میرے بدن پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھو کوئی دو انگلی بھر بھی جگہ ایسی نہ ہو گی جہاں تلوار کا زخم نہ ہو مگر میری قسمت میں شہادت نہ تھی اور آج میں چارپائی پر جان دے رہا ہوں۔۲۰، تو مومن ہر حالت میں اور ہر عمر میں خدا کا سپاہی ہوتا ہے۔اب دیکھ لو ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے آپ کو خدا کا سپاہی سمجھتے ہیں، کتنے ہیں جو تبلیغ کے لئے وقت دیتے ہیں اگر پوچھا جائے تو کہیں گے وقت نہیں ملتا حالا نکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو سوائے کام کے چھ سات گھنٹوں کے باقی سارا وقت ان کا ضائع جاتا ہے۔اگر وقتوں کی نگرانی کی جائے تو اتنا ہی وقت تبلیغ کے لئے نکال سکتے ہیں۔صرف ہمت پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس امر کی ضرورت ہے کہ جوان بوڑھوں والی