خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 244

سلام مانگنا پڑے تو اس میں عیب کی کوئی بات نہیں۔ بہر حال جب تک ہمارا مال پر بھروسہ رہے گا جب تک ہم یہ سمجھتے رہیں گے کہ اتنے ہزار سے ہمارا کام چل سکتا ہے اس وقت تک ترقی مشکل ہے۔ غرباء اپنے دل میں یہ سمجھیں کہ جب ہمارے پاس ایمان ہے تو ساری دنیا کے اموال ہمارے ہیں وہ اپنے آپ کو امیر سمجھیں یہ خیال بالکل نہ کریں کہ ہم غریب ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے اور امیر سمجھیں کہ ہمارے پاس جو دولت ہے یہ دین اور سلسلہ کے لئے ہے تب وہ اس مساوات اور عید میں شامل ہو سکیں گے۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے اموال نہ دیں گے تو دین تو تب بھی ترقی کرے گا مگر وہ اس خوشی میں شریک نہیں ہو سکیں گے منافقوں کی طرح خوشی میں شامل ہو جائیں تو اور بات ہے لیکن حقیقی خوشی میں ہرگز شریک نہیں ہو سکیں گے۔ اسی طرح جوان اپنے اندر بڑھاپا اور بوڑھے اپنے اندر جوانی پیدا کریں۔ مومن کبھی بوڑھا یا جوان نہیں ہوتا۔ جس دن سے وہ ہوش سنبھالے بوڑھا ہے اور جس دن سے بڑھا پے کے آثار شروع ہوں وہ جوان ہے۔ جب اس کا نفس جوان ہوتا ہے تو عقل بوڑھی ہوتی ہے اور جب جسم بوڑھا ہو جائے تو اس کی امنگیں جوانوں کی سی ہوتی ہیں۔ رسول کریم میں ایم جب عمرہ کے لئے گئے تو اُن دنوں سخت بخار پھیلا ہوا تھا اور صحابہ میں سے بعض بیمار رہنے کی وجہ سے چل بھی نہیں سکتے تھے اور کپڑے کپڑے چلتے تھے۔ اس وقت رسول کریم میں ہم نے دیکھا کہ ایک صحابی اکڑ اکڑ کر چلتے ہیں۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ اس طرح کیوں چلتے ہو۔ تو انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اگرچہ ہماری کمریں ٹیڑھی ہو گئی ہیں مگر وہ دیکھئے سامنے پہاڑ پر کفار ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ وہ ہماری کمزوری کو محسوس کریں۔ آپ ہنسے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو تکبر نا پسند ہے مگر تمہارا یہ اکڑ کر چلنا بہت پسند آیا ہے ۔ اللہ تو کمزوری کے وقت طاقت کا اظہار اور طاقت میں کمزوری کا اظہار اسلام کا منشاء ہے۔ جب مومن دشمن کا سر کچل سکتا ہو اس وقت چاہئے کہ اسے چھوڑ دے مگر جب کمزور ہو تو چاہئے کہ اپنے سر کو اونچا رکھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جوان اور بوڑھے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ عمر کی کمی یا زیادتی کوئی چیز نہیں۔ بوڑھے اپنے عزم اور ہمت میں جوانوں کی طرح ہوں اور جوان عقل و فراست میں بوڑھوں کی طرح۔ رسول کریم ملی کی عمر ۱۳ سال کی تھی مگر آپ آخر تک جنگوں میں شریک ہوتے رہے اور آپ نے کبھی بڑھاپے کو تسلیم نہیں کیا۔ ایک صحابی کے متعلق آتا ہے کہ ان کی بیوی فوت ہو