خطبات محمود (جلد 1) — Page 191
191 کا ذہن کہاں جاتا ہے۔حضرت مظہر جان جاناں دہلی کے ایک مشہور بزرگ گزرے ہیں ان کے متعلق لکھا ہے ایک دن کوئی شخص ان کے پاس بالائی کے لڈو لایا۔دہلی میں بالائی کے لڈو خاص! طور پر بنتے ہیں جو بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔انہوں نے ان میں سے دو لڈو اپنے ایک شاگرد کو دیئے کہ کھا لو۔تھوڑی دیر کے بعد پوچھا میاں لڈو کھا لیئے۔اس نے کہا وہ تو میں نے اسی وقت کھا لئے تھے۔آپ نے فرمایا کیا دونوں کھا گئے۔اس نے کہا وہ دونوں تھے ہی کتنے بڑے میں نے تو اسی وقت کھا لئے۔ان کی مقدار ہی کتنی ہوتی ہے۔بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔دو لڈو ایک ہی دفعہ منہ میں ڈالے جا سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے تمہیں لڈو کھانے نہیں آتے۔اس نے کہا پھر آپ سکھا دیجئے۔انہوں نے کہا پھر کبھی لڈو آئے تو یاد دلانا تمہیں لڈو کھانے سکھاؤں گا۔کچھ عرصہ کے بعد پھر لڈو آئے اور اس نے کہا حضور اب سکھائیے۔آپ نے ایک رومال بچھایا۔ایک لڈو اس پر رکھ کر اس میں سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا تو ڑا اور شاگرد سے کہا۔کیا تم نے کبھی سوچا کہ یہ لڈو کن چیزوں سے بنتا ہے۔اس میں گھی استعمال ہوتا ہے ، شکر ڈالی جاتی ہے اور پھر دوسرے اجزاء کے نام لئے اور پھر پوچھا۔تمہیں معلوم ہے شکر کس طرح تیار ہوتی ہے ؟ ہزاروں لوگ اس کام پر لگے ہوتے ہیں۔اس کے لئے پہلی چیز زمین ہے۔جس میں نیشکر بویا جائے۔بھلا انسان اسے پیدا کر سکتا ہے۔ہرگز نہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا۔پھر اگر زمین بھی ہوتی مگر اس میں نیشکو نہ پیدا ہو سکتا تو انسان کیا کر سکتا۔مگر خدا نے زمین میں یہ خاصیت رکھی کہ اس میں نیشکر پیدا ہو اور اس لئے رکھی کہ تا مظہر جان جاناں لڈو کھائے۔لڈو تو آج میں کھا رہا ہوں مگر اس کی تیاری میں ایک عرصہ کئی لوگ لگے ہوئے تھے۔ایک زمیندار گنا بونے کے لئے راتوں کو جاگتا رہا، پہلے اس نے زمین میں قلبہ رانی کی ، پھر اس میں بیج ڈالا، پھر اس کی آبپاشی کرتا رہا اس نے یہ ساری مصیبتیں اس لئے جھیلیں کہ تا مظہر جان جاناں لڈو کھا سکے۔اسی طرح لڈو کے دوسرے اجزاء کے متعلق بیان کرتے رہے کہ اتنے میں کسی نے آکر کہا عصر کی نماز کا وقت ہو گیا ہے۔اس پر آپ لڈو وہیں چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔۲۷، آخر وہ روز تو اس طرح نہ کھا سکتے تھے یہ تو سبق سکھایا ہے اور یوں تو اولیاء اللہ کا ہر کام ہی خدا تعالیٰ کے لئے ہوتا ہے اور وہ ہر وقت ہی اس کے احسانات یاد رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کھانا کھاتے وقت انگلیوں سے روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے توڑتے جاتے تھے کوئی ٹکڑہ منہ میں بھی ڈال لیتے تھے گویا یوں