خطبات محمود (جلد 1) — Page 174
۱۷۴ جسم میں داخل نہ ہو۔اگر صرف نماز ہی ہوتی اور وضو صرف ظاہری صفائی ہو تا تو کہا جاتا کہ اس سے مراد صرف ہاتھ منہ اور پاؤں کا دھونا ہے اسی طرح اگر روزہ ہوتا اور کوئی چھوٹی موٹی چیز کھا لی جاتی تو کہا جا سکتا تھا کہ روزہ سے مراد فاقہ کرانا ہے لیکن جسم سے کچھ خارج ہونے سے وضو کا باطل ہو جانا اور کسی چیز کے جسم میں داخل ہونے سے روزہ کا ٹوٹ جانا بتاتا ہے کہ کسی چیز کے خارج ہونے کا نماز سے اور کسی چیز کا اندر داخل ہونا روزہ سے تعلق رکھتا ہے اور ان دونوں کو ملا کر یہ لطیف بات نکلتی ہے کہ انسان طہارت میں کامل نہیں ہو سکتا۔جب تک وہ دو احتیاطیں نہ کرے۔یعنی بعض چیزیں اپنے جسم سے نکلنے نہ دے اور بعض داخل نہ ہونے دے۔اگر ہم ان دو باتوں کا لحاظ رکھ لیں کہ بعض چیزوں کو جسم سے نکلنے نہ دیں اور بعض کو داخل نہ ہونے دیں تو طہارت کامل ہو جاتی ہے۔نماز اور روزہ سے مجموعی طور پر انسان کو یہ گر سکھایا گیا ہے کہ ہر انسان کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ بعض چیزوں کے جسم سے نکلنے کی وجہ سے وہ ناپاک ہو جاتا ہے ان کو نکلنے نہ دے اور بعض کے جسم میں داخل ہونے کی وجہ سے ناپاک ہو جاتا ہے ، انہیں داخل نہ ہونے دے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیزیں جسم سے نکلنے والی ہیں وہ نقص پر دلالت کرتی ہیں۔مثلاً پیشاب پاخانہ وغیرہ گندی چیزیں ہیں اور جو چیزیں انسان کے جسم میں داخل ہوتی ہیں وہ جسمانیات کی طرف توجہ دلاتی ہیں اور روحانیات سے پھیرتی ہیں۔پس معلوم ہوا جن چیزوں کے نکلنے سے روکا گیا ہے وہ گندی ہیں اور جن کے داخل ہونے سے روکا گیا ہے وہ مادی ہیں۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ کونسی گندی چیزیں ہوتی ہیں جن کا نکلنا مضر ہوتا ہے۔دنیا میں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ گند کا نکلنا ہی اچھا ہوتا ہے۔کیا ایسے گند بھی ہیں کہ جن کا نہ نکلنا اچھا ہوتا ہے۔اس کے متعلق ہمیں قرآن کریم اور رسول کریم ملی ایل کی تشریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض گند ایسے ہوتے ہیں کہ جن کا نہ نکلنا ہی اچھا ہوتا ہے اور ان کے نکلنے سے مراد ان کا ظہور ہوتا ہے۔مثلاً کسی کی طبیعت میں غصہ زیادہ ہے اور کسی موقع پر اسے سخت غصہ آگیا مگر وہ اسے نکلنے نہیں دیتا۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ له که نیک اور متقی انسان کو بھی غصہ آجاتا ہے۔مگر وہ نظم کر لیتا ہے یعنی روک لیتا ہے گھونٹ دیتا ہے جیسے کسی کو قے آنے لگے تو وہ اسے روک دے۔یا نماز کے وقت اس بات کا لحاظ رکھ لیتا ہے کہ اس وقت ایسی چیزیں ظاہر نہ ہوں جو وضو کو باطل کر دیں۔بعض کیفیتیں ایسی ہوتی ہیں کہ روک دینے سے کم نکلتی ہیں اور اگر انہیں نکلنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے تو بڑھ جاتی ہیں۔غصہ بھی ایسی کیفیات