خطبات محمود (جلد 1) — Page 173
12 کی عبادتیں ہیں مگر ان کا آپس میں کوئی ربط نہ ہو گا وہ ایسی ہی ہیں جیسے بکھری ہوئی اینٹیں۔لیکن شریعت اسلامیہ کو دیکھا جائے تو اس کی مثال یہ ہے جیسے ہر اینٹ اپنے اندر حقیقت رکھتی ہے۔اور پھر دیوار میں دوسری اینٹوں سے مل کر حقیقت رکھتی ہے پھر سارے مکان سے مل کر حقیقت رکھتی ہے۔یہی حال اسلامی احکام کا ہے۔ہر ایک حکم اپنے اندر حقیقت رکھتا ہے۔پھر دوسرے حکم سے مل کر ایک حقیقت رکھتا ہے پھر سارے کے سارے احکام مل کر حقیقت رکھتے ہیں میں اس وقت اس کی ایک چھوٹی سی مثال نماز اور روزہ کے متعلق پیش کرتا ہوں۔نماز اپنی ذات میں ایک سبق رکھتی ہے اور روزہ بھی اپنی ذات میں ایک سبق رکھتا ہے پھر نماز اور روزہ مل کر ایک سبق رکھتے ہیں۔اس وقت میں اس سبق کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اگر نماز نہ ہوتی صرف روزے ہوتے تو یہ سبق رہ جاتا اور اگر روزے نہ ہوتے نماز ہی ہوتی تو بھی یہ سبق رہ جاتا۔بے شک روزے اپنی ذات میں مفید ہیں اور بے شک نماز اپنی ذات میں مفید ہے جس طرح اسلام کی ساری عبادتیں اپنی اپنی ذات میں مفید ہیں لیکن نماز اور روزہ مل کر ایک نیا سبق دیتے ہیں۔وہ کیا ہے میرا خیال ہے ممکن ہے کسی نے اس طرف توجہ دلائی ہو لیکن میں نے کسی کا اس کے متعلق کوئی اشارہ نہیں دیکھا کہ نماز اور روزہ میں مل کر ایک سبق پایا جاتا ہے۔نماز کا اصل مقام طہارت ہے جسے وضو کی حالت کہتے ہیں۔اسی لئے رسول ملالی نے فرمایا ہے جو وضو کر کے نماز کے لئے بیٹھ جاتا ہے وہ نماز کی حالت میں ہی ہوتا ہے۔کہ نماز اس حالت کا انتہائی مقام ہے ورنہ اصل نماز قلبی کیفیت ہے جو وضو سے تعلق رکھتی ہے۔اب یہ دیکھنا چاہئے کہ وضو کی کیا حقیقت ہے۔وضو کے ذریعہ جو فعل ہم کرتے ہیں وہ اُس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کوئی چیز جسم سے خارج نہ ہو خواہ وہ پیشاب و پاخانہ کے رنگ میں خارج ہو۔خواہ مرد و عورت کے تعلقات کے ذریعہ خارج ہو یا اور ایسے رنگوں میں خارج ہو جن سے طہارت کو نقصان پہنچتا ہو جیسے ہوا خارج ہو۔غرض وضو کا مدار کسی چیز کے جسم سے نہ نکلنے پر ہے۔سہ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ نماز کی طہارت کا مدار اس پر ہے کہ کوئی چیز جسم سے خارج نہ ہو۔اسی طرح روزہ کی طہارت کا مدار کس پر ہے۔اس پر کہ کوئی چیز جسم کے اندر داخل نہ ہو۔کہ بے شک روزہ میں مرد و عورت کے تعلقات سے بھی روکا گیا ہے ، مگر یہ اس لئے کہ روزہ کی حالت میں انسان کی کمی توجہ اور طرف نہ ہو۔ورنہ روزہ کا اصل مدار کسی چیز کے جسم میں داخل نہ ہونے پر ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ روزہ کا مدار اس پر ہے کہ کوئی چیز اردو