خطبات محمود (جلد 1) — Page 164
فقرہ کہ "عید تو ہے چاہے کر دیا نہ کرو۔اس میں اس عید کی طرف اشارہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی عید ہے۔اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ چاہے یہ کرو یا نہ کرو ایک ہی بات ہے بلکہ یہ اسی طرح کہا گیا ہے جیسے کہتے ہیں۔ہے تو سچا چاہے مانو یہ نہ مانو۔یعنی اس سے فائدہ اٹھانا نہ اٹھانا تمہارا کام ہے ہم نے چیز مہیا کر دی ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام بھی عید ہیں۔خدا تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ مسلمانوں کی ترقی کے سامان پیدا کر دیئے۔اب یہ ان کی مرضی ہے ان ذرائع اور ان سامانوں کو استعمال کر کے فائدہ اٹھائیں ، ترقی کریں اور عزت حاصل کریں یا نہ اٹھائیں اور اپنی ذلّت و نکبت میں بڑھتے چلے جائیں۔تو انبیاء بے شک عید ہوتے ہیں مگر خدا تعالٰی عید لوگوں سے جبرا نہیں منواتا بلکہ ان کی مرضی پر چھوڑ دیتا ہے۔اگر کوئی شخص عید منائے تو وہ خوشی اور مسرت حاصل کرتا ہے لیکن اگر نہ منائے اور سوگ ہی رکھے تو یہ بھی اس کی مرضی ہے اس میں کوئی جبر نہیں۔اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے علم النفس کا ایک عجیب نکتہ بیان فرمایا ہے یعنی عید کرنا یا نہ کرنا انسان کے اندر کے احساسات پر منحصر ہے صرف سامان کا موجود ہونا عید منانے کے لئے کافی نہیں ہو تا بلکہ ان کا اختیار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔دنیا میں بہتر سے بہتر چیزیں ہیں اگر انہیں استعمال نہ کیا جائے تو وہ کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں۔اسی عید کے دن کو لے لو۔کئی علاقوں میں چاند نظر نہیں آتا اور وہ لوگ روزہ رکھتے ہیں۔اب عید تو ہوتی ہے مگر بوجہ محسوس نہ کرنے کے اس علاقہ کے لوگوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور وہ اس کی خوشی سے محروم رہتے ہیں۔اسی طرح عید کا دن ہو لیکن ایک گھر میں میت پڑی ہو عورتیں آہ و فغاں کر رہی ہوں بچے رو رہے ہوں اور اگر کوئی زیادہ تقویٰ والا گھر نہ ہو تو وہاں عورتیں گالوں کو پیٹتی اور بالوں کو نوچتی ہیں تو ان کے لئے کوئی عید نہیں حالانکہ باقی لوگ عید کی خوشیاں منا رہے ہوں گے۔تو عید انسان کے اندرونی اور قلبی احساسات اور جذبات سے ہوتی ہے جس میں اس کے لئے احساسات نہ ہوں اس کے لئے کوئی عید نہیں ہوتی۔پس بات یہی ہے کہ "عید تو ہے چاہے کرو یا نہ کرو " غرضیکہ عید کا ہونا ہی کافی نہیں ہو تا بلکہ اسے منانے کی خواہش بھی اس کی تکمیل کیلئے ضروری ہے۔جب تک اپنے نفس میں یہ خواہش نہ ہو کہ ہم نے عید منانی ہے اس وقت تک عید کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔اس۔سے ہمارے سلسلہ کے متعلق بھی ایک سبق حاصل ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب۔