خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 145

۱۴۵ اپنے غموں اور فکروں کو ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے مگر انہوں نے کئی دفعہ جب کہ آپ اکیلے ہوتے اور کوئی پاس نہ ہو تا مجھے کہا میاں! جب سے حضرت صاحب فوت ہوئے ہیں مجھے اپنا جسم خالی معلوم ہوتا ہے اور دنیا خالی خالی نظر آتی ہے۔میں لوگوں میں چلتا پھرتا اور کام کرتا ہوں مگر پھر بھی یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی چیز باقی نہیں رہی۔آپ کے علاوہ کئی اور لوگوں کو بھی میں نے دیکھا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی صحبت میں رہے ان کی محبت اور عشق ایسا بڑھا ہوا تھا کہ کوئی چیز انہیں لطف نہ دیتی وہ چاہتے کہ کاش ہماری جان نکل جائے تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جا ملیں۔مگر باوجود اس خواہش کے وہ زندہ تھے ، مر نہیں گئے تھے۔پس دنیا میں چیزیں خواہ کیسی ہی محبوب کیوں نہ ہوں ان سے جدائی ہوتی ہے اور وہ برداشت کرنی پڑتی ہے۔لیکن ایک ایسی ہستی ہے جس سے کبھی جُدا نہیں ہونا پڑتا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اس سے انسان جدا نہیں ہو سکتا ممکن ہی نہیں کہ اس سے جُدا ہو سکے اور وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔انسان اگر اپنی نادانی اور غفلت سے خدا تعالیٰ سے جُدا بھی ہونا چاہے تو بھی خدا تعالیٰ چونکہ محیط ہے ہر ایک چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اس لئے انسان چاہے کتنا بھاگے اس کے احاطہ سے بھاگ نہیں سکتا۔۲۴ خدا تعالیٰ اپنے علم اور فضل سے ہر جگہ موجود ہے اور جس طرح اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا احاطہ کیا ہوا تھا اسی طرح ابو جہل کا بھی کیا ہوا تھا۔ہاں اس کی رحمت کئی شکلوں میں نازل ہوتی ہے کبھی تو اس کی رحمت فضل اور انعام کے ذریعہ نازل ہوتی ہے اور کبھی عذاب کے ذریعہ۔تبھی تو خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔رَحْمَتِی وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۲۵، اگر خدا تعالیٰ کا عذاب دیتا بھی رحمت نہیں تو پھر رَحْمَتِی وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ کس طرح ہوا۔بات اصل میں یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی پر جو عذاب نازل ہوتا ہے وہ بھی چونکہ اس کی بھلائی اور بہتری کے لئے ہی ہوتا ہے اس لئے وہ بھی انعام اور فضل ہی ہوتا ہے کیونکہ بندہ خواہ کس قدر خدا تعالیٰ سے بھاگے وہ اسے نہیں چھوڑتا۔دیکھو ابو جهل ۲۶ اپنی ساری کوششوں کے باوجود خدا تعالیٰ کے احاطہ سے بھاگ نہ سکا اسی طرح فرعون ۲۷ بھی اپنی تمام سعی کے باوجود بھاگ نہ سکا، شداد ۲۸ اور نمرود ۲۹ نے بھی بھاگنے کی بہت کوشش کی مگر بھاگ نہ سکے کیونکہ وہ ایسی ہستی سے ملے ہوئے تھے جس سے جدا نہیں ہو سکتے تھے مگر اس حالت میں تو وہ ہستی ان سے ملی ہوئی تھی وہ اپنی طرف سے نہ ملے ہوئے تھے