خطبات محمود (جلد 1) — Page 139
۱۳۹ (۱۵) فرموده ۱۴۔ اپریل ۱۹۲۶ء بمقام باغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام - قادیان) بسا اوقات دنیا میں انسان اپنی صحیح حالت کا اندازہ لگانے سے قاصر رہ جاتا ہے۔ بہت دفعہ رہا ہوں۔ اور اور دیکھا گیا ہے کہ ایک انسان ترقی کی طرف جا رہا ہوتا ۔ جا رہا ہوتا ہے، کامیابی کی طرف چل رہا ہوتا ہے فتح و ظفر کی طرف قدم مار رہا ہوتا ہے لیکن خیال یہ کرتا ہے کہ میں ناکام ہو رہا ہوں شکست کھا ر بہت دفعہ دیکھا گیا ہے انسان یہ خیال کرتا ہے کہ میں کامیاب ہو رہا ہوں، ترقی کی طرف جا رہا ہوں اور فتح و ظفر کی طرف قدم مار رہا ہوں لیکن در حقیقت وہ ناکام ہو رہا ہوتا ہے اور شکست کے سامان اس کے لئے پیدا ہو رہے ہوتے ہیں۔ لے اس غلطی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات انسان کامیابی کے سرے پر پہنچ کر پھر ہمت ہار دیتا ہے اور اس دھوکا کی وجہ سے جو اس کے نفس کو لگا ہوتا ہے کہ شکست کھا رہا ہوں واقعہ میں وہ شکست کھا جاتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جن کے لئے تباہی کے سامان ہو رہے ہوتے ہیں وہ اندھا دھند چلے جاتے ہیں اور بغیر علاج کئے موت کے منہ میں جا پڑتے اور اپنے فریب میں آپ ہی اُلجھ جاتے ہیں اس لئے انسان کی صحیح حالت کا اندازہ ضروری ہوتا ہے اور صحیح اندازہ ہی اس کی ترقی میں بہت بڑا مد ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی اپنے متعلق صحیح اندازہ نہیں لگاتا تو بسا اوقات کامیابی اس کے ہاتھ میں آئی ہوئی جاتی رہتی ہے اور بسا اوقات وہ ناکامی سے بچ سکتا تھا مگر کوشش نہیں کرتا۔ پس صحیح اندازہ کامیابی کے لئے نہایت ضروری ہے کوئی حقیقت ہی اس کے لئے ضروری نہیں جس پر قائم ہو بلکہ اس کا صحیح علم بھی ضروری ہے۔ آج کا دن عید کا دن کہلاتا ہے اور جس دن کو خدا اور اس کے رسول مسلم کی طرف سے عید کا دن کے قرار دیا جائے کون ہے جو کہے وہ عید کا دن نہیں ہے لیکن باوجود اس کے کہ یہ عید کا دن ہے پھر بھی خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت ہو سکتا ہے کہ بعض کے لئے یہ عید کا دن ہو اور بعض کے لئے نہ ہو۔ دیکھو عمدہ غذاؤں کے عمدہ ہونے میں شک ہی کیا ہو سکتا ہے اور طبیب غذاؤں کے طیب ہونے میں کون شک کر سکتا ہے۔ پھر جن غذاؤں کو خدا تعالیٰ نے جسم کو قوت