خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 131

١٣١ باوجود اس کے اس غم کے ساتھ ایسی لذت بھی ہوتی ہے جس کی قیمت دنیا کی کوئی خوشی نہیں ہو سکتی۔جس طرح ڈوبتے کو بچانے کی کوشش کرنے والا جانتا ہے کہ شاید میں بھی ڈوب جاؤں مگر باوجود اس خوف کے وہ اس کام میں خوشی کی ہر محسوس کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ایک کام ہے جو میں اپنی زندگی میں کر رہا ہوں اور یہ مخلوق خدا کی خدمت ہے جو میں ادا کر رہا ہوں۔اسی طرح ایک سپاہی جو اپنے ملک کی خاطر جان دیتا ہے اس کی حالت ہوتی ہے۔جان دینا کوئی معمولی بات نہیں۔انسان تو انسان حیوان اور ادنیٰ سے ادنی حیوان اور مکھی اور چیونٹی بھی پسند نہیں کرتی کہ ہلاک ہو جائے۔مگر ایک سپاہی خوشی خوشی جان دیتا ہے۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اسے جان دینے میں غم اور صدمہ نہیں ہوتا ، ہوتا ہے مگر جب وہ محب وطن کے لئے لڑتا ہے تو اس میں خوشی بھی محسوس کرتا ہے۔اور ہر سپاہی میدان جنگ میں اس لئے جان نہیں دیتا کہ اس کے لئے مجبور ہوتا ہے۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے جب کہا جاتا ہے کہ فلاں خطرناک موقع پر کون کون جانا چاہتا ہے اس وقت بہت لوگ اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔ان کے متعلق کوئی نہیں کہہ سکتا کہ انہیں اپنی جان عزیز نہیں ہوتی ، انہیں بیوی بچوں سے محبت نہیں ہوتی وہ جانتے ہیں کہ ۹۹ فیصدی امکان موت ہے۔وہ جانتے ہیں ان کی بیوی بچوں کا کوئی خبر گیراں نہ ہو گا۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بوڑھے ماں باپ کو پانی تک پلانے والا کوئی نہ ہو گا مگر باوجود اس کے وہ جاتے ہیں اور اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں۔وہ غمگین ہوتے ہیں ان کے لئے جو ان کے پیچھے رہ جاتے ہیں مگر وہ خوش ہوتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ملک کی خاطر جان دی۔میں نے ولایت میں شاہی نمائش میں جنگ کا ایک نقشہ دیکھا جو سرکاری طور پر دکھایا گیا تھا۔ایک جگہ جرمنوں کا بحری بیڑہ خطرناک حملہ کرتا تھا جہاں اس نے سینکڑوں جہاز برطانیہ اور فرانس کے غرق کر دیئے جب نقصان حد سے زیادہ بڑھ گیا تو انگریزی امیر البحر نے فیصلہ کیا کہ خواہ کچھ ہوا سے فتح کرنا چاہئے مگر وہ مقام فتح نہیں کیا جا سکتا تھا جب تک کچھ جہازوں کے ساتھ کچھ جانیں بھی ضائع نہ ہوں۔اُس وقت بحری فوج میں اعلان کیا گیا کہ کون کون لوگ اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔اس پر سب بحری فوج نے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔اس میں سے کچھ آدمی چنے گئے۔ان کا کام یہ تھا کہ اس مقام پر جا کر اپنے اپنے جہاز کو غرق کر کے وہ راستہ بند کر دیں جہاں سے نکل کر جرمن جہاز حملہ کرتے تھے۔ادھر جرمن بھی سوئے ہوئے نہ تھے۔ان کے پہرے مقرر تھے اس لئے یہ تجویز کی گئی کہ انگریزی بیڑہ ایک اور طرف حملہ