خطبات محمود (جلد 1) — Page 126
(۱۴) فرموده ۲۵ اپریل ۱۹۲۵ء بمقام مسجد اقصیٰ۔قادیان) ید کا آج ہم اس جگہ اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ عید کا دن ہے اور عید کا دن مسلمانوں کے دلوں میں خوشی اور انبساط کی لہر پیدا کر دیتا ہے لیکن کیا عید کے دن کی خوشی اس سبب سے ہے اور اس وجہ سے ہے کہ اس دن کے آنے پر لوگوں کو کچھ مل جاتا ہے۔کیا اس دن انعامات ا تقسیم ہوتے ہیں۔کیا اس دن کوئی جاگیریں ملتی ہیں۔ان میں سے کوئی بات بھی نہیں بلکہ عام طور پر لوگوں کو اس دن کچھ نہ کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے مگر باوجود اس کے لوگ خوش ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آج خوشی کا دن ہے۔یہ بات ہمیں دو سبق دیتی ہے۔جن میں سے ایک تو ظاہری سبق ہے اور ایک باطنی۔ظاہری سبق اس سے یہ ملتا ہے کہ انسان کی فطرت خدا تعالیٰ نے ایسی بنائی ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنے لئے آپ خوشی کے سامان پیدا کر سکتا ہے اور اگر چاہے تو اپنے لئے غم کے سامان پیدا کر لیتا ہے۔ہم کیوں خوش ہوتے ہیں؟ اگر ہم اس کا ظاہری جواب دینا چاہیں تو ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ ہم اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ خوش ہیں۔ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ آج خوش ہونگے اس لئے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر یہ فیصلہ کرتے کہ غمگین ونگے تو بغیر کسی باعث اور سبب کے غمگین ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام فرمایا کرتے تھے اگر کوئی رونی صورت بنالے تو واقعہ میں تھوڑی دیر کے بعد رونے لگ جائے گا اور اگر کوئی نسی کی صورت بنالے تو واقعہ میں خوش ہو جائے گا۔لے یہ ایسی سچائی ہے کہ کوئی شخص بھی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ہم روزانہ دیکھتے ہیں ایک شخص مجلس میں آتا ہے جو سروں کو دیکھ کر ہنسنے لگتا ہے اسے یہ بھی معلوم نہیں ہو تا کہ ہنسی کا سبب کیا ہے لیکن ساری مجلس کو ہنستے دیکھ کر وہ بھی بننے لگ جاتا ہے۔یہی دیکھو جب کبھی اجتماع کے موقع پر دعا کی جاتی ہے تو سب لوگ آرام اور خاموشی سے دعا کر رہے ہوتے ہیں کہ ایک طرف سے کسی کی شیخ نکل جاتی ہے اس کے بعد چاروں طرف سے چیچنیں سنائی دینے لگتی ہیں اور آہ و بکا کا شور پڑ جاتا ہے۔وہ ایک شخص ابتداء کرتا ہے کوئی وجہ اور کوئی سبب ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ برداشت دو