خطبات محمود (جلد 1) — Page 116
١١٩ فیصلہ اس لیلۃ القدر میں ہوتا ہے جس میں وہ نبی بیج ہو کر جاتا ہے اور اس میں وہ فوت ہو جاتا ہے۔ پھر ایک وقفہ پڑ جاتا ہے جس طرح لیلۃ القدر اور عید کے چاند میں ہوتا ہے۔ اس وقفہ میں فورا ترقی نہیں ہو جاتی بلکہ نبی کی قوم کو اس وقت جد وجہد کرنی پڑتی ہے اور اسی طرح مصائب کو برداشت کرنا پڑتا ہے جس طرح وہ نبی کے شروع کے زمانے میں برداشت کرتے تھے۔ ان مصائب کو برداشت کرنے کے بعد عید کا چاند طلوع ہوتا ہے یعنی ان کی ترقیات کا زمانہ آتا ہے مگر اس ترقیات کے زمانہ کی ان لوگوں کو خوشی نہیں ہوتی جنہوں نے رمضان کی لذت اور سرور کو حاصل کیا ہوتا ہے یعنی ان مصائب کو برداشت کیا ہوتا ہے جو نبی کے شروع زمانہ میں ان کو اٹھانے پڑتے ہیں ان کے لئے عید کوئی خوشی لانے والی نہیں ہوتی کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ہمیشہ رمضان ہی رہے۔ وہ مصائب کا زمانہ ان کے لئے خوش کن نظر آتا ہے اس عید کی نسبت جو اپنے اندر ظاہری خوشی رکھتی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ سورۃ النصر جب نازل ہوئی تو تمام صحابہ خوش ہو گئے کہ فتوحات کا زمانہ آگیا لیکن حضرت ابو بکر رو پڑے۔ تب صحابہؓ نے کہا کہ تم کو کیا ہو گیا ہے کہ تم روتے ہو حالانکہ فتوحات کے زمانے کے آنے کی خوشی کرنی چاہئے۔ تب آپ نے کہا کہ میں اس لئے روتا ہوں کہ رسول اللہ میں یہ اب فوت ہو جائیں گے۔ ماہ پس جس طرح اس ترقی کے زمانہ کی خوش زمانہ کی خوشخبری کو سن کر حضرت ابو بکر رو پڑے تھے میں کہتا ہوں کہ میرے لئے بھی وہ ترقی کا زمانہ کوئی خوشی کا زمانہ نہ ہو گا۔ اوروں کے لئے وہ خوشی کا زمانہ ہو گا لیکن میں یہی چاہوں گا کہ میرے لئے رمضان ہی ہو اور مجھے ان مصائب میں جو نبی کے وقت اٹھانی پڑیں زیادہ مزا آئے گا بہ نسبت اس عید کے جس میں تمہیں خوشی ہوگی۔ پھر میں کہتا ہوں وہ لیلۃ القدر وہ ہے کہ جس میں تمام معاملات شرعیہ کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ للہ اور جب مِنْ كُلِّ اَمْرِ کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو نبی کی وفات کا زمانہ آجاتا ہے اور اس کی وفات ہوتی ہے۔ پھر ایک وقفہ پڑ جاتا ہے جس میں اس قوم کو جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور اس کے بعد عید کا چاند نکلتا ہے اور ترقی کا زمانہ آتا ہے اور ترقی ہوتی ہے۔ اس وقت وہ لوگ جو مَتى نَصْرُ اللهِ لا کہتے تھے۔ پکار اٹھتے ہیں کہ یہ نبی سچا تھا اور بچوں کی طرح اس عید میں آکر شامل ہو جاتے ہیں لیکن مصائب کے زمانہ میں وہی لوگ نبی کے ساتھ شامل ہوتے ہیں جو بالغ اور عاقل اور صاحب فراست ہوتے ہیں۔ بچوں کی سی عقل رکھنے والے رمضان کا چاند نہیں دیکھتے اور جس طرح بچے روزے نہیں رکھتے لیکن عید میں شامل ہو جاتے ہیں اسی طرح کم عقل