خطبات محمود (جلد 1) — Page 69
۶۹ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے جب آپ نے اپنی طاقتوں کو خدا کی راہ میں خرچ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر ایسا عید کا دن چڑھایا کہ جو پھر غروب نہ ہوا۔آپ کے دشمنوں نے آپ کو ہزار ہا قسم کی تکلیفیں پہنچا ئیں لیکن آپ کو اس جنت سے جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو داخل کیا تھا نہ نکال سکے۔آپ پر ایسے ایسے شدائد آئے کہ جن سے کمر ٹوٹ جائے لیکن دنیا کے کسی بڑے سے بڑے حادثہ نے آپ پر کوئی اثر نہ کیا۔گورداسپور میں جن دنوں مقدمہ تھا میں تو چھوٹا تھا لیکن بعض دوستوں نے سنایا ہے کہ ایک صاحب بھاگے ہوئے آئے اور کہا کہ حضور ایج تو اس بات پر آمادہ ہے کہ چاہے ایک ہی دن کی سزا دے مگر دے ضرور تاکہ اپیل بھی نہ ہو سکے۔اس پر کہا گیا کہ کسی طرح صلح کر لینی چاہئے۔اس وقت حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے۔آپ اُٹھ بیٹھے اور کہا کہ وہ خدا کے شیریر کیا ہاتھ ڈالے گا۔خدا کے شیر پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں۔خدا کے نبی خدا کے شیر ہوتے ہیں ان پر ہاتھ ڈالنا اپنی ہلاکت کا سامان کرنا ہے۔ا اسی طرح جن دنوں کلارک کا مقدمہ تھا۔لاہ میری عمر اُس وقت دس سال کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب اوروں کو دعاؤں کے لئے کہا تو مجھے بھی کہا کہ دعا اور استخارہ کرو۔میں نے اس وقت رویا میں دیکھا کہ ہمارے گھر کے ارد گرد پہرے لگے ہوئے ہیں۔میں اندر گیا جہاں سیڑھیاں ہیں وہاں ایک تہہ خانہ تھا میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب کو وہاں کھڑا کر کے آگے اُپلے چن دیئے گئے ہیں اور ان پر مٹی کا تیل ڈال کر کوشش کی جارہی ہے کہ آگ لگا دیں مگر جب دیا سلائی سے آگ لگاتے ہیں تو آگ نہیں لگتی۔وہ بار بار آگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہوتے۔میں اس سے بہت گھبرایا لیکن جب میں نے اس دروازہ کی چوکھٹ کی طرف دیکھا تو وہاں لکھا تھا کہ ”جو خدا کے بندے ہوتے ہیں ان کو کوئی آگ نہیں جلا سکتی۔غرض مصائب پر مصائب آئے مگر وہ اس طرح گزر گئے جس طرح جسم پر انڈیلا ہوا گھڑے کا پانی گذر جاتا ہے۔پس ان کے لئے جو خدا کے عہد ہوں ہر روز عید کا روز ہوتا ہے اور دنیا کی کوئی مصیبت ان پر اثر نہیں ڈال سکتی کیونکہ ان کو دل کا اطمینان حاصل ہوتا ہے۔لیکن وہ شخص جس کا دل دکھوں اور آفتوں میں گھرا ہوا ہو اور جس کا دل آفتوں کا شکار ہو ، وہ خواہ اچھے کپڑے پہن لے اچھا کھانا لے، اس کے لئے کوئی عید نہیں ہے۔ان کے مقابلہ میں خدا کے بندے ایک ایسے