خطبات محمود (جلد 1) — Page 51
اه بچھڑے ہوئے دوست کی ملاقات سے ہو گی۔کسی شخص کے دس بیٹے ہوں اور ان میں سے ایک کے متعلق اسے یقین ہو کہ وہ مر گیا ہے اور وہ اچانک اسے مل جاوے تو اس کی یہ خوشی بے حد ہوگی اور موجودہ نو لڑکوں کی موجودگی سے کہیں بڑھ کر ہو گی بلکہ ممکن ہے بعض صورت میں شادی مرگ بھی ہو جائے کیونکہ کھوئی ہوئی چیز کے دوبارہ ملنے کی خوشی ایک خاص خوشی ہوتی ہے۔انجیل میں حضرت مسیح نے ایک واقعہ مثال کے طور پر بیان کیا ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کے کئی بیٹے تھے۔اس نے بہت سا مال ان میں تقسیم کیا اور ہر ایک کو اپنی زندگی میں ہی ایک معقول رقم دی تا مرنے کے بعد فساد نہ ہو اور جھگڑا نہ ہو۔اس کے بیٹے مال لے کر مختلف جہات کو گئے اور انہوں نے مختلف ذرائع سے اپنے اموال کو بڑھایا اور فائدہ اٹھایا۔مگر ایک لڑکے نے اپنا روپیہ اپنی غفلت اور سُستی اور غلط کاری و عیاشی کے باعث تمام کا تمام ضائع و برباد کر دیا اور کچھ بھی اس کے پاس باقی نہ رہا۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ بھوکا اور نگا ہو گیا اور مجبوراً اسے ایک سور پالنے والے کی ملازمت اختیار کرنی پڑی۔آخر ایک دن اس کے دل میں خیال آیا کہ میرے باپ کے کئی نوکر چاکر ہیں وہ ان کو کھانا کھلاتا ہے اور کپڑے پہناتا ہے اگر میں بھی واپس جاؤں تو کیا وہ مجھے کھانے اور پہننے کو نہ دے گا۔اس خیال سے وہ واپس آیا اور شرم کے مارے اپنے باپ کے سامنے تو نہ گیا بلکہ اس کے نوکروں میں بیٹھ گیا۔کسی نے اس کے باپ کو اطلاع کر دی۔حضرت مسیح فرماتے ہیں۔بتاؤ اس کے باپ نے یہ خبر پا کر کیا کیا ہو گا؟ فرماتے ہیں۔اس نے فورا ایک موٹا تازہ بکرا منگایا اور قربانی کیا اور اس کے واپس آنے کی بہت بڑی خوشی منائی۔نوکروں میں سے اٹھا کر عزت کی جگہ بٹھلایا۔تب اس کے دوسرے بیٹوں نے باپ سے کہا کہ ہم بھی آپ کے لڑکے تھے اور ہم نے آپ کے مال کی حفاظت کی اور خوب اس کو بڑھایا مگر آپ نے ہمارے آنے پر اس قدر خوشی کا اظہار نہیں کیا جس قدر کہ اس لڑکے کے آنے پر اور اس کے لئے موٹا بکرا ذبح کیا مگر ہمارے لئے ایک ڈبلی بکری بھی ذبح نہ کی۔اس پر ان کے باپ نے کہا کہ تمہاری غلطی ہے تم کھوئے نہ گئے تھے کہ میں نے تم کو پایا مگر یہ میرا بیٹا کھویا گیا تھا اور اب میں نے اسے پایا ہے۔پس اس کے آنے پر اس قدر خوشی چاہئے تھی۔کہ یہ تو ایک ایسے باپ کا ذکر ہے جس کے کئی بیٹے تھے۔اگر کسی کا ایک ہی بیٹا ہو اور وہ کھویا جائے۔پھر مدتوں بعد واپس آجائے تو اس کی خوشی کتنی بڑی خوشی ہو گی اور وہ اس کے واپس آجانے پر کیا