خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 480

۴۸۰ کیونکہ رمضان نے ہمیں بتایا ہے کہ تمہاری کیفیت یہ ہونی چاہئے کہ تمہارے گھر میں دولت تو ہو مگر اسے اپنے لئے خرچ نہ کرو بلکہ دوسروں کے لئے کروں تب قوم کے لئے عید کا دن آتا ہے۔آخر عید صرف کھانے پینے کا نام نہیں۔مسلمانوں میں ایسے ہزاروں لوگ موجود ہیں جو روزانہ وہ کچھ کھاتے ہیں جو غرباء کو عید کے دن بھی میسر نہیں آتا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے زمانہ میں تعلیمی مدارس دیکھنے کے لئے میں نے ایک دفعہ دورہ کیا۔کہ شاہجہانپور کے ایک برانے بزرگ ہیں ان کے والد جو مخلص احمدی اور شہر کے رکیں تھے انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیٹا ہونے کی وجہ سے میری دعوت کی۔میرے ساتھ سلسلہ کے علماء بھی تھے جب ہم کھانا کھانے بیٹھے تو کھانے اتنی کثرت کے ساتھ تھے اور اتنی دور تک ہوئے تھے کہ اگر ہاتھ کو پوری طرح لمبا بھی کر لیا جاتا تب بھی کھانوں کے آخر تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔میں اُس وقت بچہ تھا میں نے کہہ دیا کہ یہ اسراف ہے اس میں سے چوتھا حصہ بھی ہم نہیں کھا سکتے چاہئے تھا کہ جتنا روپیہ اس دعوت پر خرچ کیا گیا ہے اس کا زیادہ حصہ غرباء پر خرچ کر دیا جاتا اور ایک دو کھانے ہمارے لئے تیار کر لئے جاتے۔اس پر وہ ایسے خفا ہوئے کہ جتنے دن میں وہاں رہا پھر وہ مجھے ملنے کے لئے نہیں آئے۔اسی طرح حضرت عبدالرحمن بن عوف A مسلمانوں میں سب سے زیادہ امیر سمجھے جاتے تھے جب وہ فوت ہوئے تو ان کے گھر سے اڑھائی کروڑ دینار نکلا کہ حالانکہ اس زمانہ میں سکتہ کی قیمت بہت زیادہ ہوتی تھی اور چیزیں بڑی سستی مل جایا کرتی تھیں بلکہ وہ تو دور کا زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سکھوں کے زمانہ میں بعض دفعہ آٹھ آٹھ آنے من غلہ مل جاتا تھا اور چار چار آنے سیر گھی مل جاتا تھا۔پرانے زمانہ میں جب ہم کشمیر جاتے تھے تو سنا کرتے تھے کہ مری میں ڈیڑھ ڈیڑھ آنے میں مرغی مل جاتی ہے۔ایسی جگہ اگر پندرہ روپے بھی کسی کو مل جاتے تو اس کا بڑا اچھا گزارہ ہو جاتا تھا۔مجھے اپنی ہوش میں یاد ہے کہ دس گیارہ آنے سیر گھی مل جاتا تھا اور غریب آدمی عام طور پر ایک سیر گھی میں گزارہ کر لیتے ہیں۔اسی طرح ڈیڑھ دو روپے من آٹا مل گیا تو گزارہ ہو گیا۔اب ہمیں روپے بے شک زیادہ ملتے ہیں مگر مہنگائی بھی اس نسبت سے بڑھ گئی ہے اور اس طرح بات و میں آکر ٹھہری ہے جہاں پہلے تھی۔مجھے یاد ہے کہ مولوی شیر علی صاحب لے چونکہ بیمار رہتے تھے اس لئے وہ اکثر دودھ پیا