خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 474

۴۷۴ جاؤں گا۔جب لڑکے اس مکان پر جاتے اور دیکھتے کہ اس لڑکے نے ان سے جھوٹ بولا ہے دعوت تو تھی نہیں تو وہ پھر اسے پکڑ لیتے اور خوب مارتے۔اس پر وہ لڑکا اور بھی زور سے سکھنا شروع کر دیتا میں نے دھوکا کیا تھا اصل میں دعوت فلاں گھر میں ہے۔اس پر وہ لڑکے اس گھر کی طرف جاتے لیکن بعد میں پھر وہ لڑکا خود بھی اس گھر کی طرف دوڑتا اور خیال کرتا کہ میں نے مارا بھی کھائی ہے اور پھر دعوت بھی دوسرے لڑکے کھائیں یہ درست نہیں۔تو انسان ایک بناوٹی بات بناتا ہے لیکن بعد میں وہ حقیقت بن جاتی ہے۔پس حقیقی عید کے لانے کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ انسان بناوٹی عید منانے کی کوشش کرے اس طرح خدا تعالیٰ اسے حقیقی عید بھی دے گا بشرطیکہ حقیقی عید لانے کے لئے وہ کوشش کرے۔ہمیں تو خدا تعالیٰ نے بناوٹی عید دی ہوئی ہے۔اللہ تعالٰی نے اس زمانہ میں اپنے ایک مامور کو بھیجا ہے اور بتایا ہے کہ اب مسلمانوں کے لئے عید کا زمانہ آیا ہے اب شوکتِ اسلام کا زمانہ ہے لیکن افسوس کہ حقیقی عید لانے کے لئے ہم نے کوئی کوشش نہیں کی۔اگر ہم جھوٹے طور پر بھی عید عید کہیں گے گو ہمارا نفس تو جھوٹ بولے گا لیکن دراصل وہ بات کچی ہوگی۔جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ رسول کریم کے پاس منافق آکر کہتے کہ ہم گواہی دیتے ہیں تو اللہ کا رسول ہے اس پر خدا تعالیٰ نے کہا کہ یہ منافق جھوٹ بولتے ہیں لیکن اتنی بات ضرور سچ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔۱۳ پس اگر ہم جھوٹی عید بھی منائیں گے تو وہ سچ بن جائے گی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی تائید میں نہ ہوگی۔نئے کپڑے بدل لینا ، عطر لگا لینا یا اچھے کھانے پکا لینا ایک ادنی شکل ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ کی محبت اپنے دل میں پیدا کرنا چاہئے ، اس کی صفات کو یاد کرنا چاہئے ، اس کا ذکر کرنا چاہئے چاہے ہم اپنے دل سے ایسا نہ کر رہے ہوں صرف زبان سے ہی ذکر الہی کر رہے ہوں تا خدا تعالی کو بھی غیرت آ جائے اور وہ ہمارے جھوٹ کو سچ بنا دے۔مثلاً ایک امیر شخص اپنے غلام کو دس تھپڑ مارے اور پھر اس سے کہے کہ تو نہیں تو وہ بظاہر آہا آہا کر دے گا تا اس کا مالک اس پر وش ہو جائے لیکن اس کا دل رو رہا ہو گا۔اسی طرح اگر ہم بناوٹی عید محض خدا کی خوشنودی کے لئے منائیں گے تو خدا تعالیٰ بھی کہے گا کہ اس نے یہ بناوٹ صرف میری خاطر کی ہے اس میں جس چیز کی طاقت تھی اس نے اس کا اظہار کر دیا لیکن اِنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ قلبه ، دل میرے قبضہ میں ہیں ظاہری طور پر اس نے عید منالی ہے اندرونی طور پر میں اسے عید دیتا ہوں۔