خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 461

30 کیا ہو سکتا ہے۔اگر تکلیف کو اگلے ماہ پر نہ پھیلا دیا جائے تو تنخواہیں جولائی تک بھی نہیں مل سکتیں۔خزانہ میں صرف چار ہزار روپیہ ہے اس سے ۵۰ ہزار روپیہ کس طرح ادا کر دیا جائے۔کسی ناظر میں یہ توفیق نہیں کہ وہ یہ روپیہ ادا کرے لیکن ان میں یہ توفیق ضرور ہے کہ وہ ایک لاکھ روپیہ کی سفارش کر دیں۔ان میں یہ توفیق ہے کہ وہ اپنا عملہ زیادہ کروالیں لیکن یہ توفیق صرف خدا تعالیٰ کو ہی حاصل ہے کہ وہ کوئی ایسا انتظام کر دے کہ آپ لوگوں کو تنخواہیں مل سکیں اور یہ اس وقت ہو گا جب تم لوگ تعاون کرو۔ناظر عقل سے کام لیں اور تم نیک مشورہ رو۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کتنے آدمی تھے۔اگر تم واقعی قربانی کرنے کے لئے تیار ہو تو اپنا عملہ کم کر دو۔اب لوگ کہتے ہیں کہ دفتر والے یاد دہانیاں نہیں کراتے لیکن اگر دفتر میں صرف دو کلرک ہوں تو وہ یہ نہیں کہیں گے کہ دفتر والے یاد دہانیاں نہیں کراتے بلکہ وہ کہیں گے کہ یہ ہمارا قصور ہے۔اب وہ یہاں پچاس کلرک دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں تم حرام خوری کر رہے ہو تم یاد دہانیاں کیوں نہیں کراتے۔پس تمہارا موجودہ طریق غلط ہے تم اخلاص والا طریق اختیار کرو۔کل وکیل المال صاحب تحریک جدید نے رپورٹ کی کہ عید کا دن ہمارا کمائی کا دن ہوتا ہے۔قادیان میں عید کے دن بھی عملہ بیٹھا رہتا تھا تا کہ لوگ آسانی سے روپیہ جمع کرا سکیں لیکن آج سب کلرک بھاگ گئے ہیں کیونکہ دفتر میں آج کی چھٹی ہے۔اب لوگ آتے ہیں تو دفتر بند ہوتا ہے تم کہو گے کہ عید کی چھٹی ہونی چاہئے مگر کیا یہ چھٹی صرف تمہیں ہونی چاہئے۔یا آج سے بیس سال قبل کے آدمیوں کو بھی اس کی ضرورت تھی۔کہتے ہیں جب اوکھلی میں سر دیا تو موہلوں کا کیا ڈر۔اگر تم سلسلہ کی خدمت کرنے کے لئے یہاں آئے ہو تو پھر یہ کیا کہ آج چھٹی ہے، آج دفتر بند ہے۔میں بیمار ہوں لیکن عید پڑھانے کے لئے آگیا ہوں۔میرے ساتھ روزانہ یہی ہوتا ہے کہ میں بیمار بھی ہوتا ہوں تو ایک رقعہ آجاتا ہے کہ میں تھوڑے وقت کیلئے یہاں آیا ہوں مجھے ملاقات کا وقت دیا جائے پھر تیسرا رقعہ آ جاتا ہے چوتھا رقعہ آجاتا ہے میں فلاں جگہ سے آیا ہوں اور آج میں نے واپس چلے جاتا ہے حضور ملاقات کا موقع دیں میں اسے ملنے کے لئے چلا جاتا ہوں۔عصر کے بعد ایک رقعہ آجاتا ہے پھر کئی دفعہ راتوں کو اطلاع آجاتی ہے مجھے تو کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔اگر ہم نے دین کا کام کرنا ہے تو چھٹی کیسی؟ میرے لئے تو وہی چھٹی کا وقت ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہو۔اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارے کاموں میں برکت ہوگی اور اگر ہم انگریزوں کی طرح کریں گے کہ آج دفتر میں