خطبات محمود (جلد 1) — Page 453
۴۷۵۳ اور محلہ کے دوسرے لوگ بھی اس کے ساتھ مبین میں شریک ہو جاتے اور جب تک وہ اکٹھے ہو کر مرنے والے کا بین نہیں کرتے تھے انہیں تسلی نہیں ہوتی تھی اور سمجھتے تھے کہ انہوں نے مرنے والے کا غم نہیں کیا۔ایک دن اتفاق یوں ہوا کہ کوئی شخص مکہ کے پاس سے گذر رہا تھا اس کی اونٹنی جس پر وہ سوار تھا مر گئی۔عرب فطرتا شاعر تھے۔اس شخص نے اپنی اونٹنی کے غم میں چند اشعار بنائے کہ تو بڑی اچھی اونٹنی تھی، تجھ میں فلاں خوبی تھی، فلاں خوبی تھی اب تو مر گئی ہے میں تیرا افسوس کس طرح کروں۔میں تیری موت پر کیسے صبر کروں اس کا رستہ مکہ میں سے گزرتا تھا اور پھر اس شخص کے گھر کے قریب سے گزرتا تھا جس کے دو بیٹے جنگ بدر میں مارے گئے۔وہ شخص اندر بیٹھ کر رو رہا تھا کہ اس اونٹنی کا مالک گلی میں سے وہ شعر پڑھتا ہوا گزرا جو اس نے اپنی اونٹنی کے متعلق بنائے تھے کہ تو بڑی اچھی تھی تجھ میں فلاں خوبی تھی، فلاں خوبی تھی، میں تیرا افسوس کس طرح کروں اس شخص نے جب یہ شعر سنے تو وہ برداشت نہ کر سکا اور دروازہ کھول کر چیخ مار کر باہر آگیا اور عرب کے رواج کے مطابق اس نے اپنا سر پیٹ لیا اور کہنے لگا اس شخص کو اپنی اونٹنی کے مرجانے پر ماتم کرنے کا حق ہے لیکن میرے دو بیٹے مر گئے مجھے ان پر آنسو بہانے کا حق نہیں مجھے ان کا ماتم کرنے سے منع کر دیا گیا ہے اور پھر وہ قصیدہ میں اپنے بیٹوں کی خوبیاں بیان کرنے لگا۔قریباً سب لوگ زخم خوردہ تھے اور صرف جرمانہ کے خوف اور قوم کی ناراضگی سے بچنے کے لئے دبے بیٹھے تھے۔جب اس کی چیخیں انہیں سنائی دیں تو سارے دروازے کھل گئے اور مکہ کے تمام لوگ باہر نکل کر رونے پیٹنے لگ گئے۔کے اب دیکھو بدر کا دن ہمارے لئے اب بھی عید کا دن ہے مگر وہ کفار کے لئے ماتم کا دن تھا۔پس عید بھی ایک نسبتی چیز ہے وہ ایک کے لئے عید ہوتی ہے لیکن دوسرے کے لئے عید نہیں ہوتی۔ایک کے گھر میں بیٹا پیدا ہوتا ہے تو وہ ہنس رہا ہوتا ہے لیکن دوسرے گھر میں ماتم ہوتا ہے اور گھر والے سب رو رہے ہوتے ہیں۔گویا ایک ہی وقت میں ایک گھر میں عید ہوتی ہے اور دوسرے گھر میں ماتم ہوتا ہے۔دیکھنا یہ چاہئے کہ ہماری آج کی عید کس حد تک عید ہے۔ہم ایک منظم جماعت ہیں ہماری عید وہی ہوگی جس میں ساری جماعت شریک ہو۔جس عید میں ساری جماعت شریک نہیں وہ عید نہیں۔پس آج اگر چہ عید ہے لیکن کیا ہماری جماعت کی حالت اس بات کی مقتضی ہے کہ ہم اسے عید قرار دیں۔مثلاً اسی سال کو دیکھ لو عید آئی اور