خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 422

۴۲۲ جس نے عید کی نماز پڑھی مگر اس کے دل میں اسلام کا درد پیدا نہیں ہوا اس کی اندرونی بینائی مردہ ہے۔اور جس نے عید نہیں منائی اس کی بھی اندرونی بینائی مُردہ ہے۔حقیقی عید اُسی کی ہے جو متضاد جذبات کے ساتھ عید مناتا ہے۔اس کا دل ماتم کرتا ہے اور اس کا ظاہر عید مناتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے تمام زندہ افراد جن میں قومی جذبہ پایا جاتا ہے ایسے ہی مظاہرے کیا کرتے ہیں۔جرمنی کی ایک عورت تھی اس کی عمراتی سال کے لگ بھگ تھی۔اس کے ساتی بیٹے تھے جو سارے کے سارے جنگ میں مارے گئے۔ہمارے ملک میں اگر کسی کے ساتھ ایسا واقعہ ہو تو کسی دوسرے کو احساس بھی نہ ہو۔مگر زندہ قومیں ان باتوں کو نوٹ کرتی رہتی ہیں کہ کسی نے کتنی قربانی کی ہے۔جب وزیر دفاع کو اس کی خبر ملی تو اس نے چاہا کہ وہ اس کو بلا کر بادشاہ اور ملک کی طرف سے اس سے ہمدردی کا اظہار کرے۔چنانچہ وزیر دفاع نے اسے خود لکھی۔جب وہ بڑھیا آئی تو وزیر دفاع نے اسے کہا کہ میں بادشاہ اور ملک کی طرف سے آپ سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں کیونکہ آپ کے تمام بیٹے جنگ میں کام آگئے ہیں۔ایک ریزی اخبار کا نمائندہ بھی اس موقع پر موجود تھا۔میں نے اس کی رپورٹ جو بعد میں شائع ہوئی پڑھی ہے۔اس نے لکھا کہ جب وہ بڑھیا باہر نکلی تو باوجود اس کے اس کی پیٹھ کبڑی ہو چکی تھی وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے پیچھے رکھ کر اپنی کمر کو دبا کر سیدھا کرتی اور ایک بناوٹی قہقہہ لگا کر کہتی کیا ہوا اگر میرا آخری بیٹا بھی مارا گیا ہے آخر وہ ملک کی خدمت کرتے ہوئے ہی مارا گیا ہے۔تو دیکھو اس عورت کے اندر قومی خدمت کا کس قدر احساس تھا۔وہ دنیا کو بتانا چاہتی تھی کہ میرے بیٹوں کے مرجانے نے میری کمر کو خم نہیں کر دیا بلکہ اور بھی سیدھا کر دیا ہے کیونکہ انہوں نے ملک کی خاطر جان دی ہے۔اب یہ تو نہیں تھا کہ اس کا دل اپنے بیٹوں کی وفات پر غمگین نہیں تھا۔دل تو غمگین تھا لیکن وہ دنیا کے سامنے یہ ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ میں اس تقدیر پر خوش ہوں جو میرے لئے غم لائی مگر میری قوم کے لئے اس نے عزت کے سامان پیدا کر دیئے۔اسی طرح محمد رسول الله ملی علوم کے لڑکے حضرت ابراہیم سے جب فوت ہوئے تو رسول کریم میں اسے دفنانے کے لئے تشریف لے گئے۔جب آپ " دفن کر چکے تو آپ نے فرمایا ؟ جا اپنے بھائی عثمان که بن مظعون کے پاس اور اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔لیکن جب وہ وقت گزر گیا۔تو پھر محمد رسول اللہ ملی لیے پہلے جیسے جوش اور تندہی کے ساتھ خدمت دین میں مصروف ہو گئے۔غرض حقیقی مومن کی یہی شان ہوتی ہے کہ وہ قومی