خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 406

۲۰۶ اسلام میں دو عیدیں ہیں کہ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ تین عیدیں ہیں جمعہ کو بھی عید ہی کہا گیا ہے کہ ان کے سوا اسلام میں کوئی عید نہیں رکھی گئی۔عید الاضحیہ اپنے اندر یہ سبق رکھتی کہ اس دن انسان اللہ تعالیٰ سے ایک عہد کرتا ہے اور اس عہد کی خوشی میں یہ عید کی جاتی ہے اور عید الفطر اس عہد کو پورا کرنے کی خوشی میں آتی ہے۔مختلف مواقع کے لحاظ سے یہ تین عیدیں ہیں۔عید الاضحیہ اس بات کی علامت ہے کہ قوم اس بات کا اقرار کرتی ہے کہ ہم جانی ومالی ہر قسم کی قربانی کریں گے اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔اس عہد کی خوشی میں عید الاضحیہ آتی ہے اور عید الفطر اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ قوم نے اس عہد کو پورا کر دیا اور جمعہ کی عید اس بات کی خوشی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دین واحد پر جمع کر دیا ہے گویا یہ اتحاد کی عید ہے۔ان تینوں عیدوں کی اسلام نے اجازت دی ہے کہ یا تو قوم قربانی کا عہد کرے یا قوم اس عہد کو پورا کر دے یا قوم میں اتحاد پیدا ہو جائے اس کے علاوہ اسلام نے کوئی عید جائز نہیں رکھی۔جو قوم اللہ تعالیٰ کے رستے میں جان کی قربانی ، مال کی قربانی ، عزت کی قربانی پیش کر دے اس کا حق ہے کہ وہ عید الفطر منائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو توفیق عطا کی اور انہوں نے اپنے عہد کو پورا کر دیا۔اس سے پہلے جب انسان دل سے تمام احکام کو مد نظر رکھتے ہوئے بیعت کرتا ہے اور قربانی کا عہد کرتا ہے تو وہ عید الاضحیہ کا حق دار ہو جاتا ہے گویا عید الاضحیہ مومن کی پیدائش کا دن ہے اور عید الفطر اس کی وفات کا دن ہے جب کہ وہ کامیاب و کامران ہو کر خوشی خوشی اپنے خدا کے پاس جاتا ہے۔ایک شاعر کہتا ہے کہ جب تو پیدا ہوا تھا تو تو رو رہا تھا اور لوگ تیرے ارد گرد بیٹھے ہوئے خوش ہو رہے تھے۔اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو روتا ہے اور رونے کی وجہ سے سانس اس کے اندر چلا جاتا ہے اور پھیپھڑ نے کام کرنے لگ جاتے ہیں ماں کے پیٹ میں اس کے پھیپھڑوں کو کام کرنے کی عادت نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس پر ایک دباؤ پڑتا ہے اور اس دباؤ کی وجہ سے وہ روتا اور چیختا ہے۔اس کے رونے کی وجہ سے پھیپھڑے اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔اس رونے میں ہی بچوں کی زندگی کا قیام رکھا گیا ہے اور ہر بچہ روتا ہے اور جاہل سے جاہل عورت بھی یہ جانتی ہے کہ اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد نہ روئے تو اس کی زندگی خطرہ میں ہے۔جب مردہ بچہ کی خبر ملے تو عور تیں پوچھتی ہیں کہ بچہ رویا تھا یا نہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زندہ پیدا ہوا یا مردہ۔اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ