خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 405

۴۰۵ ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ رمضان ختم ہوتا ہے تو تمام مسلمان خوشی مناتے ہیں وہ کونسی قربانی ہے۔جس کا یہ نتیجہ ہے۔جب کسی مسلمان کے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ عقیقہ کرتا ہے۔اس کے پڑوس میں رہنے والے ہندو سے اگر پوچھا جائے کہ یہ کیسی تقریب ہے تو گو وہ عقیقہ کی حکمت یا اس کا نام نہ بتا سکے لیکن اتنا ضرور کہہ دے گا کہ یہ ایک رسم ہے جو مسلمان بچے کی پیدائش کے بعد کیا کرتے ہیں۔یا مسلمان شادی کے بعد ولیمہ کی دعوت کرتے ہیں کہ اگر کسی ہندو سے پوچھا جائے کہ یہ آپ کے پڑوس میں کیسی دعوت ہے تو گو وہ ولیمہ کی دعوت نہ کہہ سکے اور نہ ہی اسے دعوت ولیمہ کی حکمتوں کا علم ہو لیکن وہ اتنا ضرور کہہ دے گا کہ یہ ایک دعوت ہے جو مسلمان شادی کے بعد اکثر کیا کرتے ہیں۔اسے ان باتوں کا اس لئے علم ہو گیا کہ وہ ایک لمبے عرصہ سے متواتر ان رسوم کو دیکھتا آیا ہے اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ کوئی ایسی خوشی ہے جو بچے کی پیدائش سے تعلق رکھتی ہے یا یہ کوئی ایسی خوشی ہے جو شادی سے تعلق رکھتی ہے۔اسی طرح اس کی بھی کوئی وجہ ہونی چاہئے کہ کیوں عید الفطر رمضان سے پہلے نہیں آتی یا رمضان کے درمیان میں نہیں آتی یا رمضان کے دو چار دن بعد نہیں آتی آخر اس کی کیا وجہ ہے اگر عید رمضان سے پہلے ہوتی تو ہم سمجھتے کہ کوئی خوشی رمضان سے پہلے ہے۔یا اگر عید رمضان کے درمیان میں ہوتی تو ہم سمجھتے یہ خوشی روزوں کی وجہ سے ہے اور اگر رمضان کے کچھ دن بعد ہی کرنی جائز ہوتی تو ہم سمجھتے کہ کوئی نیا معاملہ پیدا ہوا ہے لیکن عید نہ ہی رمضان سے پہلے ہے نہ ہی درمیان میں ہے نہ ہی کچھ وقفہ کے بعد ہے بلکہ رمضان کے ختم ہونے کے معا بعد یعنی دوسرے دن ہوتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عید روزے پورے کرنے کی خوشی میں آئی ہے اس لئے نہ رمضان سے پہلے عید رکھی نہ ہی درمیان میں رکھی گئی نہ ہی کچھ وقفہ کے بعد۔اس کا رمضان کے خاتمہ کے معا بعد آنا بتاتا ہے کہ تکمیل عبادت کی خوشی میں یہ عید رکھی گئی ہے مگر بعض لوگ ادھوری اور ناقص قربانی کر کے ہی عید منا لیتے ہیں۔حالانکہ دنیا میں ناکام قربانیاں بھی کی جاتی ہیں اور بعض قربانیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو لغو فضول اور ادھوری ہوتی ہیں۔جن لوگوں کی قربانیاں ادھوری ہیں ان کی عید بھی ادھوری ہے اور جن کی قربانیاں لغو اور فضول ہیں ان کے لئے حقیقت میں کوئی عید نہیں کیونکہ عید الفطر اس بات کی علامت رکھی گئی ہے کہ قربانی کی تکمیل ہو گئی اب قربانی کرنے والے کو اپنی قربانی کی تکمیل پر خوش ہونا چاہئے۔