خطبات محمود (جلد 1) — Page 398
۳۹۸ میں اس سے بڑی نعمتیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دنیا میں تشریف لانے کی غرض یہ تھی کہ اس تعلیم اور اس شریعت کو جو رسول کریم میں لائے دلوں اور جسموں پر مسلمان تم کیا جائے۔۱۲ دلوں پر قائم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان اپنے آپ کو سچا م بنا ئیں۔جب تک مسلمان بچے طور پر اسلام کے لئے قربانیاں نہیں کرتے جب تک رسول کریم میں ان کی تعلیم دنیا میں قائم نہیں کرتے ، جب تک اللہ تعالیٰ کی محبت میں محو نہیں ہو جاتے ، جب تک بنی نوع انسان کی خدمت میں لگ نہیں جاتے ، جب تک غریبوں پر رحم نہیں کھاتے ، جب تک اپنی خوشی میں تمام بھائیوں کو شریک نہیں کرتے اس وقت تک وہ محمد رسول لام کے لئے عید نہیں لا سکتے۔محمد رسول الله لا لا لا لا لو تو اسی عید میں شامل ہوں گے جس میں سب لوگوں کے دکھ اور درد دور کئے جائیں اور دنیا امن اور چین کا سانس لے آپ کے دل میں وہ درد تھا کہ آپ کسی کا درد نہ دیکھ سکتے تھے۔سا ایک جنگ کے بعد مدینے کے کئی گھروں سے رونے کی آواز میں بلند ہو ئیں لیکن ایک گھر سے جس کے رشتہ دار مدینے میں نہ تھے رونے کی آواز بلند نہ ہوئی۔آپ نے فرمایا فلاں شخص کے گھر میں رونے والا کوئی نہیں۔یہ نہیں کہ آپ رونے کو پسند کرتے تھے بلکہ یہ امتیاز آپ پر گراں گزرا کہ باقی شہیدوں کے رشتہ دار انہیں روئیں لیکن اس ایک شہید کو رونے والا کوئی نہ ہو حالانکہ آپ رونے سے منع فرماتے تھے۔رونے سے قوم کی بہادری کی روح ماری جاتی ہے اور قوم بزدل ہو جاتی ہے۔مگر اس فقرہ سے آپ کا یہ جذبہ نمایاں طور پر ظاہر ہو گیا کہ آپ اس فرق کو پسند نہیں فرماتے تھے۔دنیا میں صحابہ کے عشق کی مثال بھی نہیں ملتی۔صحابہ یہ فقرہ سنتے ہی اپنے گھروں کو دوڑے اور گھر جا کر اپنی بیویوں، بہنوں اور رشتہ داروں سے کہا۔کم بختو ! تم اپنے مردوں کو رو رہی ہو رسول کریم یا اور یوں فرماتے ہیں کہ فلاں گھر میں رونے والا کوئی نہیں۔ان عورتوں کا اخلاص بھی کس قدر بڑھا ہوا تھا بہن نے بھائی کو رونا چھوڑ دیا بیٹی نے باپ کو رونا چھوڑ دیا، ماں نے بیٹے کو رونا چھوڑ دیا سب نے اپنی چادریں سنبھالیں اور اس کے گھر میں جمع ہو گئیں جس کے متعلق رسول کریم میں یا تو میں نے فرمایا تھا کہ اس کے گھر میں رونے والا کوئی نہیں وہاں پہنچ کر سب عورتوں نے رونا شروع کر دیا۔ان کے رونے سے مدینے میں ایک کہرام مچ گیا۔رسول کریم میں نے یہ شور سن کر پوچھا یہ کیا ہو گیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! فلاں گھر میں عورتیں رو رہی ہیں۔آپ نے فرمایا ان کو منع کرو۔میں نے تو افسوس کا اظہار کیا تھا۔