خطبات محمود (جلد 1) — Page 386
۳۸۶ نے آخری زمانہ کے ٹیر کیلئے بھی محمد ( ملی ) سے قربانیاں وصول کرلی ہیں اس لئے اب وہ بالکل یکی بات ہے۔پس جہاں تک تو اسلام کی ترقیات کا سوال ہے وہ ضرور آنے والی ہیں یہ ایک ایسی یقینی بات ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں مگر سوال صرف یہ ہے کہ ان کے لانے میں ہمارا حصہ کتنا ہو گا۔آنحضرت میں ہم نے قربانیاں کیں آپ کی اور آپ کے صحابہ کی قربانیوں کی وجہ سے عید تو آنے والی ہے۔ٹیسر بھی ایک عید ہے جس کا آنا اب یقینی ہے۔سوال صرف اتنا ہے کہ اس کے لانے میں ہمارا حصہ کتنا ہو گا۔رمضان عید لاتا ہے عید کے لئے روزے رکھنے پڑتے ہیں۔ہر مسلمان کے لئے روزے رکھنا ضروری ہے۔غلطی سے بعض مسلمانوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ اگر کوئی فدیہ دے دے تو روزے معاف ہو جاتے ہیں حالانکہ اگر یہ صحیح ہو تو روزہ صرف غریبوں کے لئے ہی رہ جائے۔صحیح بات یہ ہے کہ جو شخص ایسا بیمار ہو کہ دورانِ سال میں اچھا ہو جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ فدیہ کے علاوہ روزے بھی رکھے سوائے دائم المریض کے کسی کو روزہ معاف نہیں ہو تا۔لاہ پس عید ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی عید کے لئے ہر شخص کو اتنی قربانی ضرور کرنی چاہئے جتنی وہ کرنے کی توفیق رکھتا ہو۔جیسے رمضان میں جو اتنی طاقت رکھتا ہے کہ پورے تمہیں کے تمھیں روزے رکھے اس کے لئے ضروری ہے کہ تمہیں ہی رکھے جو نہیں رکھ سکتا ہے وہ ہمیں رکھے اور جو پندرہ رکھ سکتا ہے وہ پندرہ اور جو دس رکھ سکتا ہے وہ دس رکھے حتی کہ جو ایک بھی رکھ سکتا ہے مگر نہیں رکھتا اس نے گویا عمدہ آ سارے رمضان کو کھو دیا۔پس اگر حقیقی عید کو حاصل کرنا چاہو تو اس کا یہی طریق ہے کہ ہر فرد جتنی قربانی کی وہ طاقت رکھتا ہے ضرور کرے اور قوم میں سے اگر ایک فرد بھی کو تاہی کرتا ہے تو گویا وہ اپنے ساتھیوں کے لئے عید لانے میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔پس عید کے لئے ضروری ہے کہ جتنی جتنی قربانی ممکن ہو قوم کا ہر فرد کرے اور صحیح بات تو یہ ہے کہ جب تک تمام کی تمام قوم اپنے لئے موت قبول نہ کرے اس کے لئے عید نہیں آسکتی۔مخالف ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت مالی وی کی توہین کرنے والے کے قتل کو بھی جائز نہیں سمجھتے اور دوسری طرف میں نے بارہا کہا ہے کہ ہمیں سلسلہ کے لئے اپنی جانوں کو قربان کر دینا چاہئے۔مخالف اس پر اعتراض کرتے ہیں مگر اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں۔ہم یہ کہتے ہیں کہ کسی کی جان لینا ظلم ہے لیکن اپنی جان خدا تعالیٰ کی راہ میں دینا ضروری