خطبات محمود (جلد 1) — Page 364
! قائم کیا ہے اور اس کا عنوان رکھا ہے "دی ابسولیوٹ امیر" (The Absolute Amir) یعنی ایسا بادشاہ جس کی طاقتوں کی کوئی حد بندی نہیں۔اس باب میں وہ لکھتا ہے۔صاحبزادہ صاحب یہ تعلیم دیتے تھے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مسیحیوں کو اپنا بھائی سمجھیں اور ان کو واجب القتل خیال نہ کریں۔اگر اس تعلیم کو مان لیا جاتا تو چونکہ امیر سال کا وہ بڑا ہتھیار جسے وہ انگریزوں اور روسیوں کے خلاف استعمال کر سکتا تھا باطل ہو جاتا تھا اس لئے جب اس کے پاس شکایتیں پہنچیں تو اس نے ان کو قید کر لیا اور اس نے کہا کہ میں ان کے سارے عقائد نظر انداز کر سکتا تھا مگر یہ عقیدہ کہ عیسائیوں کے خلاف جہاد جائز نہیں اس کو میں کسی طرح برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے ہوتے ہوئے اسلامی حکومتیں زندہ ہی نہیں رہ سکتیں۔وہ لکھتا ہے جب ملانوں نے ان کو سزا دینے کی کوئی وجہ نہ پائی تو امیر نے انہیں کہا کہ اس آدمی کو ضرور سزا ملنی چاہئے۔امیر کے بھائی سردار نصر اللہ خان گل نے بھی بڑا زور دیا کہ اگر یہ تعلیم لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو گئی تو انگریز اور روس ہمیں کھا جائیں گے اس کے تدارک کی ایک ہی صورت ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔اب تو یہ حالت ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں جہاد کا شوق پایا جاتا۔ا ہے اور جب انہیں لڑنے کے لئے بلایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آؤ اور جہاد کے لئے نکلو تو ہر شخص بغیر تنخواہ کے بغیر خوراک وغیرہ کا گورنمنٹ سے سامان لینے کے اور بغیر کسی معاوضہ کے لڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔مگر جس دن لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ جہاد کرنا ان پر فرض نہیں اور یہ کہ اگر وہ لڑتے ہیں تو بادشاہ اور حکومت کی خاطر لڑتے ہیں ، مذہب اسلام کی خاطر نہیں لڑتے تو ہماری طاقت بالکل کمزور ہو جائے گی اور ہمارے پاس اپنی حفاظت کا کوئی ذریعہ نہیں رہے گا۔وہ لکھتا ہے امیر بار بار صاحبزادہ صاحب کو سمجھاتا اور کہتا کہ وہ اس عقیدہ کو ترک کر دیں مگر آپ نے کہا میں اس عقیدہ کو ترک نہیں کر سکتا۔پھر اس نے اس واقعہ شہادت کی بعض ایسی تفصیلات بھی لکھی ہیں جو عام طور پر انگریز نہیں لکھا کرتے مگر چونکہ اللہ تعالی اس ذریعہ سے ان کی ولایت کا بھی ذکر قائم کرنا چاہتا تھا اس لئے اس انگریز نے ان باتوں کا بھی ذکر کر دیا۔وہ لکھتا ہے جب انہیں شہید کیا جانے لگا تو انہوں نے خبر دی کہ میری شہادت کے بعد افغانستان پر ایک قیامت آئے گی۔چنانچہ سات دن کے بعد کابل میں سخت ہیضہ پھوٹا اور کئی لوگ ہلاک ہو گئے۔وہ لکھتا ہے کہ جب کابل میں شدت سے ہیضہ پھوٹ پڑا تو سردار نصر اللہ خان کے پاس امیر گھبرا کر ادھر ادھر ٹہلتا اور کہتا جاتا تھا کہ شاید اس مولوی کی بات پوری