خطبات محمود (جلد 1) — Page 356
3 1 ۳۵۶ والے ہوں تو الا ماشاء اللہ بہت سے جرائم ، ظلم، فسادات اور جھگڑے آپ ہی آپ کم ہو جائیں گے کیونکہ جہاں نور ہو وہاں ظلمت نہیں رہ سکتی۔ایک چھوٹا سا دیا تم جلاتے ہو جس کی رو وشنی نہایت دھندلی سی ہوتی ہے مگر پھر بھی اس دیئے کے جلتے ہی اس کمرے کی ظلمت فوراً دور ہو جاتی ہے پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ قرآن کریم جو خدا کا دیا ہے وہ کسی گھر میں روشن ہو اور وہاں ظلمت باقی رہ جائے۔اگر قرآن ہمارے دلوں میں آجائے تو تمام ظلمتیں خود بخود کافور ہونا شروع ہو جائیں گی اور نیکی اور تقویٰ کا بیچ اس طرح بویا جائے گا کہ آئندہ نسلیں بھی اسی رنگ میں رنگین ہو جائیں گی۔پس مساوات کا سبق جو اس عید سے ملتا ہے وہ ہم میں سے ہر شخص کو یاد رکھنا چاہئے اور ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس کی بیوی بچے رشتہ دار اور ہمسائے سب قرآن کریم کا ترجمہ جاننے والے ہوں۔اگر ایسا ہو جائے تو ہم میں ایک ایسی دینی مساوات قائم ہو جائے گی جو جماعت کی روحانی ترقی کے لئے خاص طور پر مفید ہوگی اور جس کے نتیجہ میں خود بخود بدیوں کا استیصال اور نیکی کا قیام ہو تا چلا جائے گا کیونکہ قرآن کریم جاننے والا اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھے گا فلموں سے بھی بچے گا، نیکیوں کے حاصل کرنے کی بھی کوشش کرے گا اور اسلامی تعلیم کو بھی قائم کرنے کی جدوجہد کرے گا اور در حقیقت اسلامی قیام ہی ہمارا اصل مقصد ہے۔لاپس آج کے دن میں جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ کوئی ایسی سکیم سوچیں جس سے ہر احمدی قرآن کریم کا ترجمہ جاننے لگے۔اگر ہم اس بات میں کامیاب ہو جائیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ دنیا کی کوئی طاقت ہم کو مٹا نہیں سکتی۔قرآن کریم ایک زرہ ہے جس کو توڑنے کے لئے کوئی تلوار نہ آج تک بنی ہے اور نہ قیامت تک بن سکتی ہے۔اگر یہ زرہ ہماری جماعت کے ہر فرد کو میسر آجائے تو ہماری مثال بالکل ویسی ہی ہو جائے جیسے ہندو دیوتاؤں کے متعلق کہانیوں میں بیان کیا جاتا ہے کہ تلواریں ایک ایک کر کے ٹوٹ جاتی تھیں مگر ان کے جسموں پر ان تلواروں کا کوئی اثر نہیں ہو تا تھا۔اگر ہم میں سے ہر شخص بچے معنوں میں قرآن کریم کا حامل ہو ، اس کی تعلیم پر عمل کرتا ہو اور اس کا نور اس کے دل و دماغ میں سرایت کر چکا ہو تو دنیا اسے خواہ کتنی ہی تلواریں مارے تلواریں ٹوٹ جائیں گی مگر وہ اس کے دل کو نہیں توڑ سکیں گی جو خدا تعالیٰ کی محبت اور قرآن کریم کے معارف کا جلوہ گر ہو گا کیونکہ وہ دل خدا کے نور کا گھر ہو گا اور خدا یہ پسند نہیں کر سکتا کہ وہ گھر برباد ہو جس گھر میں اس کا نور جلوہ گر ہو۔کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کر سکتا ہے کہ جس