خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 32

۳۲ وہاں تیسرا جہاں تین جمع ہوتے ہیں وہاں چوتھا آجاتا ہے۔اصل میں تمام ارواح ایک بڑی روح سے جو خدا ہے پیدا شدہ ہیں گو وہ اس کی مخلوق ہیں۔مگر جس طرح ایک بچہ کا ماں سے ایک بھائی کا بھائی سے تعلق ہوتا ہے اگر چہ وہ دونوں الگ الگ ہوتے ہیں اسی طرح بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ خالق کا مخلوق سے تعلق ہے ۵ا۔دیکھو ایک بھائی دوسرے بھائی سے ملتا ہے تو کیسی لذت اور سرور حاصل کرتا ہے۔اسی طرح دنیا کی جماعتیں جب آپس میں ملتی ہیں تو خوش ہوتی ہیں۔چونکہ سب مخلوق میں ایک تعلق اور رشتہ ہے اس وجہ سے جب کہیں ایک دو سرے سے مل جائیں تو بہت خوش ہوتی ہیں۔اس سے سمجھ لینا چاہئے کہ اگر تمام لوگ ایک دین پر اپنے ایک آقا کے آستانہ پر اپنے ایک خالق کے دربار میں جمع ہو جائیں تو ایک دوسرے کے لئے کس قدر خوشی کا موجب ہو سکتے ہیں اسی لئے خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے سرور اور خوشی کا دروازہ کھول کر یہ فرما دیا ہے کہ قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ہمارا یہ رسول تمام دنیا کی طرف آیا ہے۔یہ کام تو ہمارے متعلق تھا کہ تمام دنیا کو جمع کرنے کے لئے ایک رسول بھیج دیں اس کو ہم نے کر دیا۔اب یہ تمہارا کام ہے کہ سب کو ایک جگہ اور ایک نقطہ پر اکٹھا کر کے سرور اور خوشی حاصل کر لو۔ان چھوٹے چھوٹے اجتماعوں کو بہتوں نے دیکھا ہو گا۔بعض نے حج کا اجتماع بھی دیکھا ہو گا۔گو وہ چند لاکھ سے زیادہ انسانوں کا نہیں ہوتا لیکن اس سے جو خوشی حاصل ہوتی ہے وہ بہت بڑی ہوتی ہے۔پس جب چند لاکھ کے مجمع سے اتنی خوشی حاصل ہو سکتی ہے تو جب دنیا کا اکثر حصہ ایک نقطہ پر جمع ہو گا اس سے کتنی بڑی خوشی ہوگی اور وہ کتنی بڑی عید کی جائے گی۔لوگ خوش ہو جاؤ اور تمہیں مبارک ہو کہ اس بڑی عید کے آنے کا زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہی زمانہ ہے جس کے متعلق خدا تعالٰی نے فرمایا ہے۔لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّه - کہ مسیح کا زمانہ وہ زمانہ ہو گا جب کہ اسلام کو تمام ادیان پر غلبہ حاصل ہو جائے گا اور آنحضرت م السلام کی صداقت کو مسیح موعود اور آپ کی جماعت کے ذریعہ پھیلا کر سب کو ایک جگہ پر جمع کر دیا جائے گا اس وقت ہمارے لئے اصل عید ہو گی۔جب تک وہ عید نہیں آتی اُس وقت تک یہ عیدیں تو ہمیں شرمندہ کرنے کے لئے آتی ہیں۔تاہم آپ لوگ ان سے سبق حاصل کریں اور دیکھیں کہ جب چند آدمیوں کے جمع ہونے کے لئے اتنی تیاری کی جاتی ہے اور اس مجمع سے اتنی خوشی ہوتی ہے حالانکہ بظاہر کچھ ملتا نہیں بلکہ خرچ ہی کرنا پڑتا ہے گو لذت بھی