خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 314

۳۱ یہ حالت تھی کہ ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز کے لئے تشریف لے گئے اور ہم نے جھٹ جا کر کاپی اٹھا کر دیکھی کہ دیکھیں تازہ الہام کیا ہے۔یا پھر خود مسجد میں پہنچ کر آپ کے دہن مبارک سے سنا۔تو رسول کریم میں اللہ علیہ کی وحی کو لکھنے والے کے لئے کیسا قابلِ رشک موقع تھا کہ وہ سب سے پہلے وحی کو سنتا تھا مگر چھوٹی سی بات پر ایسی ٹھوکر لگی کہ مرتد ہو گیا۔۲۵ تو اپنی کسی نیکی یا خدمات پر فخر کرنا اور یہ کہنا کہ میں ایسا میں ویسا یہ ایک لغو بات ہے۔انسان کا کوئی نیک عمل مکمل نہیں ہو سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو اور یہی فضل حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالٰی نے یہ دعا سکھائی ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ - نیکی کی نیست بے شک انسان کرتا ہے مگر اس کی تکمیل خدا تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی طرف ہی اشارہ کیا ہے کہ انسان کو اپنے اعمال پر کبھی غرور نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہتا چاہئے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ حج کر کے آتے ہیں تو ان کی سنگدلی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ایسے سنگدل ہو جاتے ہیں کہ کوئی حد نہیں رہتی۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی اندھی بڑھیا عورت تھی جو ریل کے انتظار میں مسافر خانہ میں بیٹھی تھی اس کے پاس ایک ہی چادر تھی جو کسی نے اٹھالی اس نے ہاتھ مارا تو معلوم ہوا کہ چادر ہے۔اس نے کہا کہ وے بھائی حاجیا! میری چادر دے دے، یعنی بھائی حاجی صاحب مجھ غریب کو چادر دے دو۔اس شخص نے اس کی بات سنی تو اس کے پاس گیا اور کہا کہ مائی چادر تو نے لے مگر یہ بتا کہ تجھے یہ کس طرح علم ہوا کہ میں حاجی ہوں۔اس بڑھیا نے جواب دیا کہ ایسا سنگدل سوائے حاجی کے کون ہو سکتا ہے۔تو دیکھو بعض دفعہ انسان وطن کو عزیز و اقارب کو چھوڑ کر حج کے لئے جاتا ہے ، روپیہ خرچ کرتا ہے، تکالیف اٹھاتا ہے مگر دل پتھر کا ہو جاتا ہے۔میرے سامنے کئی دوستوں نے ذکر کیا ہے کہ حج کے بعد ان کے اندر وہ بات نہیں رہی جو پہلے تھی اور عبادت میں پہلے جیسی لذت محسوس نہیں ہوتی اس قسم کی حالت اکثر اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ بسا اوقات انسان اپنے اس فعل کو بہت اہمیت دے لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں نے بہت نیکی کی ہے اور اس تکبر کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اسے اخلاص سے محروم کر دیتا ہے پس نیکی کے بعد انسان کو فخر ہرگز نہیں کرنا چاہئے اور خدا تعالیٰ پر احسان نہیں دھرنا چاہئے۔بلکہ یہی سمجھنا چاہئے کہ میں اب بھی خدا تعالیٰ کے فضل کا محتاج ہوں تب اللہ تعالی کی طرف سے اس پر مزید فضل نازل ہوں گے لیکن جو اپنے اعمال پر غرور کرتا ہے وہ حج ، نماز اور روزہ کا لفظ لئے بیٹھا