خطبات محمود (جلد 1) — Page 303
٣٠٣ دیکھ تو سرکار اس میں شرط یہ لکھی نہیں" اب کون شخص ہے جس کے ذہن میں یہ شرط بھی آسکتی ہے کہ اگر میں گھوڑے سے گروں اور پاؤں رکاب میں پھنس جائے تو اسے نکالنا بھی ملازم کا فرض ہے۔تو روحانی و جسمانی تعلقات میں ایسی بیسیوں باتیں ہوتی ہیں اور ان میں ایسا تنوع پایا جاتا ہے کہ ان کی معین طور پر حد بندی نہیں کی جا سکتی خواہ کتنی شرطیں باندھ لی جائیں پھر بھی کوئی نہ کوئی پہلو ضرور ان سے باہر رہ جاتا ہے۔نماز کے ساتھ چاہے جتنی شرطیں لگا لو اور ان کی پابندی پوری احتیاط سے کرو پھر بھی کوئی نہ کوئی موقع ایسا ضرور آئے گا کہ ان حد بندیوں کے باوجود تمہاری نماز ناقص رہ جائے گی۔اصل چیز یہی ہے کہ نماز کو خدا تعالی کی خاطر پڑھا جائے۔لے باقی رہی یہ بات کہ وضو اس طرح کیا جائے ، اس طرح ہاتھ باندھے جائیں، اس طرح جھکا جائے ، کمر اس طرح رکھی جائے یہ ایسی تفاصیل ہیں کہ پوری احتیاط کے باوجود کوئی نہ کوئی پہلو ایسا رہ جاتا ہے جس کی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ نماز ناقص رہ گئی۔اسی طرح روزہ ہے تم اس کے متعلق کتنی پابندیاں لگالو ایسی کوئی معین صورت مقرر نہیں کی جاسکتی کہ کوئی کہہ سکے اس طرح روزہ بالکل مکمل ہو جائے گا۔خواہ چار صفحات کی شرطیں لکھ ڈالی جائیں پھر بھی کسی نہ کسی پہلو سے نقص رہ جائے گا اور اس طرح روزہ نا مکمل ہو جائے گا۔پس اصل شرط یہی ہے کہ نماز خدا تعالیٰ کے لئے اور حتی المقدور اس کے بنائے ہوئے احکام کے مطابق پڑھی جائے۔روزہ خدا تعالیٰ کے لئے اور حتی المقدور اس کے بنائے ہوئے احکام کے مطابق رکھا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ عام مومن کے لئے دین العجائز ہی بہترین چیز ہے بڑھیا والا ایمان ہی کافی ہے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول نے ایک بات کہہ دی ہے اس لئے اسے اختیار کرنا چاہیئے۔کہ لمبی بحثوں میں پڑنا اچھا نہیں صرف یہ کافی ہے کہ اللہ و رسول کا یہ حکم ہے اس کی پابندی ہونی چاہئے اور عوام کے لئے یہ دین العجائز ہی بہترین چیز ہے اس لئے کہ ان میں اتنی قابلیت نہیں ہوتی کہ وہ ہر بات سے فلسفیانہ نتائج اخذ کر سکیں۔دوسروں کے لئے بھی یہی بہتر ہوتا ہے کہ کیونکہ انہوں نے عوام کے لئے نمونہ بنتا ہوتا ہے اور ہر ایک مسئلہ کے متعلق فلسفیانہ موشگافیاں کی جائیں تو آسان مسائل بھی نہایت پیچیدہ بن جاتے ہیں۔میں ایک مرتبہ منالی سہ سے واپس آ رہا تھا راستہ میں ایک سکھ وکیل مجھ سے ملے۔انہوں نے کہا کہ میں بعض باتیں کرنا چاہتا ہوں وہ پہلے سے سلسلہ احمدیہ کی کتب کا مطالعہ