خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 285

۲۸۵ طرح جو قوم غالب ہوتی ہے اس کے ذلیل ترین وجود بھی غالب ہوتے ہیں اور جو قوم ذلیل ہوتی ہے اس کے معزز ترین افراد بھی ذلیل ہو جاتے ہیں۔پس فردی طور پر اگر عزت نہ ملے لیکن مجموعی طور پر مل جائے تو مجموعی عزت بھی بڑی بیش قیمت ہوتی ہے اور اس کے نتیجہ میں اس قوم کے افراد بھی معزز سمجھے جاتے ہیں۔لیکن جو افراد اپنی عزت کے لئے قوم کی عزت برباد کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ان کی اپنی عزت بھی کوئی نہیں ہوتی۔کچھ عرصہ ہوا جب امریکہ نے امتناع شراب کا حکم نافذ کیا الہ تو اس وقت امریکہ کے علاقہ میں باہر کی قومیں شراب لا کر فروخت کر دیا کرتی تھیں۔ایک دفعہ ایک انگریزی جہاز وہاں آیا اور امریکن جہازوں کو یہ شبہ ہوا کہ اس میں شراب ہے انہوں نے انگریزی جہاز کو روکا مگروہ نہ رکا۔اتفاقاً وہ جہاز ایسی جگہ تھا جہاں امریکن جہاز اسے روکنے کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔سمندروں میں جہازوں کی حد بندی کی ہوئی ہوتی ہے اور ساحل کے قریب تین میل کے اندر اندر غیر ملکی جہازوں کی تلاشی لی۔جا سکتی ہے مگر وہ جہاز اس حد سے باہر تھا اور وہ اس علاقہ میں تھا جہاں انگریزی مملکت تسلیم کی جاتی تھی۔جب انگریزی جہاز نہ رکا تو امریکہ کے جہاز نے اس کا تعاقب کیا اور آخر ہوا میں ایک گولہ پھینکا۔طریق یہ ہے کہ جہاز والے پہلے ہوا میں گولہ پھینکتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب تو ہم نے ہوا میں گولہ پھینکا ہے مگر دو سرا گولہ تم پر پھینکا جائے گا۔اگر باز آتے ہو تو آ جاؤ۔جب امریکن جہاز نے ہوا میں گولہ پھینکا تو یہ دیکھتے ہی انگریزی جہاز ٹھہر گیا اور اس نے اپنے جہاز پر انگریزی جھنڈا لہرا دیا جس کے معنی یہ تھے کہ یہ انگریزی حکومت کا جہاز ہے اگر ہمت ہے تو اس پر گولہ پھینک کر دیکھو۔امریکن جہاز نے جب انگریزی جھنڈا دیکھا تو چُپ کر کے واپس لوٹ گیا۔تو قوموں کی عزت کے ساتھ ہی افراد کی عزت وابستہ ہوتی ہے لیکن افراد کی عزت کے ساتھ قوم کی عزت وابستہ نہیں ہوتی۔مسلمانوں نے جب سے اس نکتہ کو بھلا دیا وہ ذلیل ہو گئے ، وہ کمزور ہو گئے اور ان میں کوئی قوتِ عمل باقی نہ رہی۔آج اللہ تعالٰی نے احمدیت کے ذریعہ پھر اسلام کی ترقی کا فیصلہ کیا ہے۔پس آج اگر ہماری جماعت کے افراد اس نکتہ کو سمجھ لیں گے تو وہ عزت پالیں گے لیکن اگر وہ اس نکتہ کو نہیں سمجھیں گے تو وہ اسی طرح بے طاقت ہو کر رہ جائیں گے جس طرح مسلمان ہوئے۔اگر ہم میں سے ہر فرد کے ذہن میں یہ بات موجود رہے گی کہ احمدیت کی عزت میں میری عزت ہے اور احمدیت کی ذلت میں میری ذلت ہے۔اگر میں مرجاؤں اور احمدیت زندہ رہے تو میں کامیاب ہو گیا اور اگر میں زندہ رہوں