خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 280

فرض نہیں مگر یہ روزے فرض ہیں اور قومی عبادت ہیں۔پس یہ مت خیال کرو کہ روزے فردی عبادت ہیں یہ قومی عبادت ہے اور جو لوگ قوم کے لئے قربانیاں کرتے ہیں وہی قومی عید دیکھنے کے مستحق ہوتے ہیں بلکہ وہ دہرا فائدہ اٹھاتے ہیں یعنی انہیں وہ فائدہ بھی پہنچتا ہے جو فردی ہوتا ہے۔اور وہ فائدہ بھی پہنچتا ہے جو قومی ہوتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو حج کرنے والا وہ فائدہ بھی اٹھا لیتا ہے جو عمرے والا اٹھاتا ہے مگر عمرے والا وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا جو حج کرنے والا اٹھاتا ہے۔اسی طرح نفلی روزے رکھنے والا وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا جو رمضان کے روزے رکھنے والا اٹھاتا ہے مگر رمضان کے روزے رکھنے والا نفلی روزوں کا فائدہ بھی اٹھا لیتا ہے۔یعنی جس طرح نفلی روزہ رکھنے والا جاگتا ہے اسی طرح وہ بھی جاگتا ہے ، جس طرح وہ عبادت کرتا ہے اسی طرح یہ بھی کرتا ہے، جس طرح وہ روزہ رکھتا ہے اسی طرح یہ بھی رکھتا ہے مگر اسے مزید فائدہ یہ حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ نیکی میں اپنی قوم کے ساتھ شریک ہوتا ہے۔اسی طرح نفلی صدقہ بھی نیکی پیدا کرتا ہے اور فرض زکوۃ بھی نیکی پیدا کرتی ہے مگر فرق یہ ہے کہ نفلی صدقہ صرف ایک انسان کی ذات کو فائدہ پہنچاتا ہے مگر فرض زکوۃ قوم کو فائدہ پہنچاتی ہے اور زکوۃ دینے والا جانتا ہے کہ میرا روپیہ یونہی خرچ نہیں ہو گا بلکہ قومی بیت المال میں جا کر ساری قوم کے لئے ایک اصول اور سکیم کے ماتحت خرچ ہو گا۔اسی طرح نفلی نماز پڑھنے والا بھی نیکی حاصل کرتا ہے اور با جماعت نماز پڑھنے والا بھی نیکی حاصل کرتا ہے مگر نفلی نماز میں وہ فائدہ انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا جو نماز با جماعت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ نماز با جماعت میں یہ سبق سکھایا جاتا ہے کہ تمہیں ہمیشہ بُنْيَانُ قَرْصُوص ال۔رہنا چاہئے اور ایک امام کی اطاعت پر ہر وقت کمر بستہ رہنا چاہئے۔تو فرض اور قومی عبادتوں سے دو ہرا فائدہ انسان کو پہنچتا ہے۔مگر نفلی اور فردی قربانیاں صرف ایک فائدہ انسان کو پہنچاتی ہیں۔غرض روزوں نے ہمیں عظیم الشان سبق دیا ہے مگر افسوس ہے کہ بوجہ عرصہ دراز سے محکوم ہونے کے مسلمان اس سے وہ فائدہ نہیں اٹھا رہے جو پہلے زمانوں میں مسلمان اٹھاتے تھے۔اور ابھی تک ان میں قومی ترقی اور قومی بہبود کا خیال پیدا۔نہیں ہوا اور میں دیکھتا ہوں کہ احمدیوں میں بھی کسی حد تک یہ بات پائی جاتی ہے۔چنانچہ یہ تڑپ ہر احمدی کے دل میں پائی جائے گی کہ میں نیک ہو جاؤں مگر یہ تڑپ بہت کم احمدیوں کے دلوں میں پائی جائے گی کہ ہماری قوم نیک ہو جائے۔یہ تڑپ ہر احمدی کے دل میں پائی جائے گی کہ میں بدنام نہ ہوں مگر یہ تڑپ بہت کم احمدیوں کے دلوں میں پائی جائے گی کہ قوم بد نام نہ