خطبات محمود (جلد 1) — Page 250
۲۵۰ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر دوسری محبت سے زیادہ محسوس کیا ہے اور کبھی بھی میں یہ خیال نہیں کر سکا کہ اس نے کوئی بات مجھے ایسی کسی ہوگی جو بے وجہ اور بے فائدہ ہو گی۔تب میں نے اس کے تمام احکام پر نہایت سنجیدگی اور کامل غور کے ساتھ توجہ کی اور ہمیشہ مجھے یہ معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ بھی قرآن کریم میں نازل کیا گیا ہے وہ اپنے اندر بے انتہا فائدے اور بے حد نفع میرے لئے اور میرے ساتھیوں کے لئے رکھتا ہے بلکہ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ کی محبت پر مجھے یہ یقین نہ ہوتا اور میں کسی خوف کی بناء پر اس کے کلام کو دیکھا تو قرآن کریم میرے لئے بالکل بے معنی ہوتا اور اس کی معرفت کی باتیں مجھ پر کبھی نہ کھلتیں۔پس آج عید کے دن جب کہ ہر ایک کا دل خوشی سے معمور ہے اور جب عزیز عزیز کو تحفہ دینے کی خواہش رکھتا ہے اور جب دوست اپنے دوست کی خدمت میں ہدیہ پیش کرتا ہے میں چاہتا ہوں کہ میں آپ لوگوں کو عید کا یہ تحفہ پیش کروں کہ ہمارا خدا کامل محبت ہے۔کوئی محبت اس کے مقابل پر نہیں ٹھر سکتی خواہ ماں باپ کی ہو، خواہ خاوند بیوی کی ہو، خواہ استاد کی ہو خواہ شاگرد کی ہو، خواہ اولاد کی ہو، خواہ دوستوں کی ہو، خواہ ماتحتوں کی ہو، خواہ حکام کی ہو، خواہ چھوٹوں کی ہو، خواہ بڑوں کی ہو، اس کی محبت ایک سورج ہے جس کے مقابل پر تمام محبتیں ایک جگنو کی چمک سے بھی کم ہیں۔پس اس محبت کو لے لو اور اس محبت کو اپنے دل میں جگہ دو کہ اس سے زیادہ قیمتی اور کوئی چیز نہیں۔۳۔جس کو وہ محبت مل گئی اسے سب کچھ مل گیا اور جسے وہ نہ ملی وہ دنیا کی ہر نعمت سے محروم رہا۔دنیا میں انسان چھوٹی چھوٹی نعمتوں کی بھی قدر کرتے ہیں۔پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ خدا کی طرف سے جو اتنا قیمتی تحفہ انسان کو ملا ہے کیوں انسان اس کی قدر نہیں کرتا اور کیوں ایک مومن کہلانے والا انسان شریعت پر اس لئے عمل کرتا ہے کہ کہیں خدا اس کو سزا نہ دے یہ سزا کا خیال ہمارے دل میں پیدا ہی کیوں ہو جب کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے حکم اس لئے نازل نہیں کئے کہ ہم ان کو توڑیں اور سزا پائیں بلکہ اس لئے نازل کئے ہیں کہ ہم کو ان سے ہدایت اور راہنمائی حاصل ہو اور ایسی پاکیزگی ہمارے دلوں میں پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے ہم اپنے قدوس خدا کو دیکھ سکیں گے اس کی محبت کی گرمی کو محسوس کر سکیں اس کی شفقت کے ہاتھ کو چھو سکیں اور اپنے دل کو خدا تعالیٰ کے انوار سے منور کر سکیں۔پس اے دوستو ! یقین کرو کہ تمہارا خدا محبت کرنے والا ہے۔۵ تمہارے دل میں اپنے