خطبات محمود (جلد 1) — Page 230
۲۳۰ ہے۔اور وہ خوشی کیا جو امیدوں کو آرزؤں سے بدل دے۔حقیقی غم وہی ہے جو آئندہ کی امید دلاتا ہے اور حقیقی خوشی وہی ہے جو آئندہ کے خطرات سے آگاہ کرتی ہے۔اس کے بغیر نہ غم غم ہے اور نہ خوشی خوشی۔چاہئے کہ جب انسان غم میں ہو تو ساتھ ہنستا بھی ہو اور عید میں ہو تو ساتھ غم بھی ہو گویا بعینہ وہی حالت ہو کہ ہماری بھی شب کیسی شب ہے الہی نہ روتے کئے ہے نہ سوتے کئے ہے یہی وہ مقام ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ کے قریب کر دیتا ہے جو شخص غم میں مایوس ہو جاتا ہے وہ جہنمی ہے اور خدا سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔کتنا ہی دکھ اور کتنی ہی مصیبت ہو ہمت قائم رہنی چاہئے اور امیدیں انسان کے دل میں مضبوطی سے قائم ہونی چاہئیں۔وہ مصائب کا پہاڑ سامنے دیکھے مگر کے میرا خدا انہیں دور کر سکتا ہے۔غم و ہموم کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہوں مگر وہ یقین رکھے کہ خدا ہے جو انہیں پھاڑ سکتا ہے۔پھر خواہ دنیا کی ساری عیدیں اس کے لئے جمع ہوں مگر وہ کے بے شک مجھے خوشی ہے مگر میرے سامنے ایک ایسی منزل ہے کہ ایک قدم آگے اٹھانے پر میں ایسی ٹھوکر کھاؤں کہ گر جاؤں۔مجھ پر ساری دنیا کی ذمہ داری ہے اور جب ) تک ایک بھی ایسا انسان ہے جسے خوشی میسر نہیں اس وقت تک میری عید نہیں ہو سکتی۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ - ۱۴ میں ہی سکھایا گیا ہے کہ رنج و راحت میں بنی نوع انسان شریک ہیں اس لئے جس وقت عید ہو چاہئے کہ انسان سوچے کئی گھر آج ایسے ہوں گے جن میں ماتم ہو رہا ہو گا اور اس خیال کے آتے ہی اس کی خوشی حد سے آگے نہیں جا سکے گی۔گویا عید کی کیفیت یہ ہو کہ جیسے کسی کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا اور ایک موت واقع ہو گئی ہو بچہ کی پیدائش گھر والوں کے لئے خوشی اور موت غم کا موجب ہو گی۔عید کے موقع پر انسان خیال کرے کہ کئی ایسے بھی میرے بھائی ہیں جو غم میں مبتلاء ہیں اور اگر غم پہنچے تو یہ خیال کرے کہ میرے کئی بھائی ہیں جنہیں آج خوشی نصیب ہو گی۔یہی وہ مقام ہے جو حقیقی غمگساری کا مقام ہے اسے حاصل کرو۔اس کے بغیر خدا کا قرب اور حقیقی راحت حاصل نہیں ہو سکتی۔ہماری خوشی تب مکمل ہو گی جب دوسرے اس میں شامل ہوں اور جب دوسروں کے رنج میں ہم شریک ہوں۔اس سے یہ نکتہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرنا چاہئے اور دوسروں کے رنج میں خود شریک ہونا چاہئے۔اسی وجہ سے مجھے خیال آیا کہ جب عید