خطبات محمود (جلد 1) — Page 23
۲۳ کرنے کے ارادہ سے آتا ہے اور تلوار کھینچ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور اس پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ اس کی تمام طاقتیں زائل ہو جاتی ہیں اور عاجز و درماندہ ہو کر جان بخشی کا خواہاں ہوتا ہے۔تو یہ وہ بات ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ اور فَإِنَّ مَعَ - الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - بھلا تجھے کوئی کیا دکھ اور تکلیف پہنچا سکتا ہے۔اگر کوئی تجھے ایک رنج پہنچائے۔تو ہم دو خوشیاں دیں گے۔پس فَإِذَا فَرَغْتَ فَا نُصَبُ وَ إِلَى رَبِّكَ فَارُغَبُ لا۔تجھے چاہئے کہ اپنے رب کی عبادت میں لگا رہے۔کیونکہ اسی کا نتیجہ ہے کہ تیری رات بھی خوشی میں اور دن بھی خوشی میں گذرتا ہے۔پس تمہارے لئے عیدین خوشی حاصل کرنے کے لئے نمائش کے طور پر ہیں۔تا خدا کو راضی کر لو اور تمہارے لئے ہر وقت عید ہو۔چنانچہ دیکھو صحابہ کرام نے خدا کو راضی کیا ۳ ان کے لئے کیسی عیدیں ہو ئیں۔صحابہ وہ لوگ تھے جنہیں دو وقت کا کھانا بھی نصیب نہیں ہو تا تھا اور جنہیں ملتا تھا وہ وہ لوگ تھے جو جو کا آٹا کھاتے اور وہ بھی چھنا ہوا نہیں ہو تا تھا۔اب اگر کسی کو جو کی روٹی دی جائے تو ناراض ہو جائے۔مگر ان کی یہ حالت تھی کہ جو کا آٹا کھاتے اور بے چھنا کھاتے۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ سے ایک عورت نے پوچھا کہ کیا آپ " کے زمانہ میں چھلنیاں ہوتی تھیں؟ تو انہوں نے کہا کہ اس طرح کیا جاتا تھا کہ پتھر پر جو رکھ کر کوٹ لئے جاتے تھے اور پھونک کر صاف کر لیتے اور روٹی پکا لیتے تھے۔ملا۔لیکن انہی لوگوں کو خدا تعالیٰ نے وہ ترقیاں دیں اور وہ عید کے دن دکھائے کہ دنیا میں نہ کسی نے دیکھے اور نہ دیکھے گا۔جس طرف جاتے کامیابی اور فتح پہلے ہی تیار رہتی۔لاکھوں انسان مقابلہ کے لئے آتے مگر صحابہ پہاڑ کی طرح کھڑے رہتے اور جس کسی نے ان سے سرمارا خود پاش پاش ہو گیا۔قیصر و کسری ٹڈی دل لشکر کے ساتھ آئے مگر جس طرح ایک بوسیدہ کپڑا پارہ پارہ ہو جاتا ہے اسی طرح ان کے لشکروں کا حال ہوا اور وہ زبر دست ستون جو آنحضرت میں یا ہم نے گاڑا تھا اسے کوئی نہ ہلا سکا۔یہی صحابہ ایک دوسرے کو اپنی پہلی حالت سناتے ہیں۔ابو ہریرہ 14 کہتے ہیں کہ میں بھوک کی وجہ سے گر پڑا کرتا تھا اور لوگ یہ سمجھ کر کہ اسے مرگی ہو گئی ہے علاج کے طور پر جوتیاں مارا کرتے تھے ۱۷۔پھر کہتے ہیں۔جب میں مسلمان ہو گیا تو ایک دن جب سخت بھوک لگی تو میں قرآن شریف کی ایک آیت جس میں بھوکوں کو کھانا کھلانے کا ذکر ہے۔ابو بکر ۱۸ء کے پاس اس