خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 229

۲۲۹ حرام کرتا ہے۔اسی طرح روزہ کے متعلق وہ چھ ماہ کا حکم نہیں دیتا بلکہ صرف ایک ماہ کے روزے مقرر کرتا ہے۔اور اس میں بھی یہ ہدایت ہے کہ بغیر سحری کھائے روزہ رکھنا ناپسندیدہ ہے اور افطاری بھی جلدی کرنے کی تاکید کرتا ہے۔3 پھر کھانے پینے کے متعلق حکم ہے کہ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا - 1 یعنی کھاؤ پیو مگر ایک حد کے اندر۔اسراف نہ کرو۔یہ نہیں کہ کھانے لگے تو کھاتے ہی گئے اور پینا شروع کیا تو پیتے ہی گئے بلکہ ایک حد تک کھاؤ پیو۔اسی طرح خوشی غمی کے متعلق بھی حد بندی کر دی۔دوسری اقوام کی عید میں عید میں نہیں بلکہ بدمستیاں ہوتی ہیں اور غمی غمی نہیں بلکہ مایوسی ہوتی ہے مگر اسلام نے اس معاملہ میں بھی حد بندی کر دی۔غم کے وقت انسان رونے لگتا ہے تو اسلام کہتا ہے صبر کرو۔اللہ اور خوشی میں بننے لگتا ہے تو کہتا ہے زیادہ مت ہنسو۔گاہ گویا اس نے ہمیں ایسے مقام پر کھڑا کر دیا ہے کہ اگر انسان ہر وقت سوچ سوچ کر قدم نہ رکھے تو ہلاکت کے گڑھے میں گرنے کا خطرہ ہے۔کیا عجیب بات ہے کہ اسلام نہ تو ہمیں ہننے دیتا ہے اور نہ رونے ، دونوں سے روکتا ہے۔میں ابھی گھر سے عید کیلئے آیا تھا تو خیال آیا کہ اسلام کہتا ہے کہ جاؤ عید کرو لیکن جب ہم خوشی منانے لگتے ہیں تو کہتا ہے اس طرح نہیں۔پھر کہتا ہے جاؤ غریب انسانوں سے ہمدردی کرو لیکن جب ہم رونے لگتے ہیں تو کہتا ہے اس طرح نہیں۔اس پر مجھے ایک شاعر کی رباعی یاد آگئی ہے جو اگر چہ کی تو اس نے اپنے عشق کا اظہار کرنے لئے ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اس میں اسلامی تعلیم کو بیان کیا ہے۔وہ کہتا ہے:۔کسی کی شب ہجر روتے کئے ہے ہے کسی کی شب وصل سوتے کئے ہماری یہ شب کیسی شب ہے الہی نہ روتے کئے ہے نہ سوتے کئے ہے ہمارا مذ ہب نہ ہمیں رونے دیتا ہے اور نہ ہننے۔وہ کہتا ہے کہ عید کرو ، غم کرو مگر دونوں حد کے اندر۔غم کے وقت تمہارے اندر مایوسی نہ ہونی چاہئے اگر چہ تمہارے سامنے مصائب کا پہاڑ ہو۔تمہیں یہ سوچنا چاہئے کہ ہمارے سر پر ایک خدا ہے جو سب مشکلات کو دور کر سکتا ہے۔پھر عید کرو تو اس میں بھی انتہاء نہ کرو اور یہ خیال کرو کہ تمہارے اوپر ایک خدا ہے جو تمہاری ساری نعمتیں چھین سکتا ہے۔وہ غم کیا جس نے انسان پر مایوسی طاری کر دی وہ تو موت