خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 228

۲۲۸ نے آج سبق یاد نہیں کیا یو نہی وقت ضائع کر دیا۔اس کے لئے میں نے اپنے آپ کو سزا دی ہے۔جس کا مجھے افسوس ہے انہوں نے پوچھا کیا سزا دی ہے۔کہنے لگے میں نے اپنے پر دو آنہ جرمانہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کیا آپ نے کسی غریب کو دو آنے دے دیئے۔کہنے لگے نہیں اگر ایسا کر سکتا تو خوشی نہ ہوتی۔میں نے دو آنہ کی مٹھائی لے کر کھائی ہے تو جیسا یہ جرمانہ ہے ویسی ہی یہ عبادت ہے اگر یہ عبادت ہے تو سب سے زیادہ عابد تھیٹروں والے ہیں جو ہر روز گاتے بجاتے رہتے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ عابد کنچنیاں ہیں جنہیں آٹھ آنے دے کر جس کا جی چاہے گانا سن لے۔غرض ایک طرف تو یہ عبادت ہے اور دوسری طرف بالکل انسانیت سے خارج کر دینے والی عبادت ہے یعنی اُلٹے لٹکے رہنا یا بعض لوگ ایسی چارپائی پر سوتے ہیں جس میں کیل ہی کیل لگے ہوتے ہیں۔ساری رات وہ بدن میں مجھتے رہتے ہیں ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں نیند کیا خاک آئے گی اور یہ عبادت ہو رہی ہوتی ہے۔پھر روزہ ہے ایک طرف تو ایسے لوگ ہیں جو چھ چھ ماہ روزے رکھتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جنہوں نے روزہ کی یہ صورت سمجھ رکھی ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز نہیں کھائیں گے۔یوں دن بھر دو در جن کیلئے سیر بھر مونگ پھلی دو چار سیر دودھ اور دیگر مٹھائیاں اور پھل وغیرہ کھا جائیں گے اور پھر بھی یہی کہیں گے کہ ہم نے روزہ رکھا تھا۔ہے گاندھی جی کی خوراک کے متعلق ایک اخبار نے لطیفہ شائع کیا تھا کہ وہ اتنی نارنگیاں اتنی مونگ پھلی، اتنا دودھ روزانہ پیتے ہیں جو عام آدمیوں کی خوراک سے بہت زیادہ ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ وہ کھانا بالکل نہیں کھاتے۔حالانکہ ان کی خوراک ہماری خوراک سے دو تین گنا ہو جاتی ہے۔پھر صدقہ زکوٰۃ ہے اس کے متعلق بھی یہی حال ہے بعض لوگ کسی قومی تحریک میں کوئی رقم دے دیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ اس فرض سے سبکدوش ہو گئے۔اس کے عوض میں وہ خان بہادر یا سر بھی ہو جاتے ہیں اور اس طرح اس کی قیمت بھی مل جاتی ہے۔دوسری طرف انجیل میں آتا ہے کہ جب تک تو سارا مال خدا کی راہ میں نہیں لٹا دیتا اس وقت تک خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔وہ ایک نے تو صدقہ کو سودے کی چیز بنا رکھا ہے اور دوسرے نے یہ تعلیم دی ہے کہ اپنا سب کچھ لٹا دو۔اگر تمہارے گھر میں مال ہے تو تم نجات نہیں پاسکتے۔غرض کہ سب جگہ افراط تفریط ہے سوائے اسلام کے۔اسلام ہر روز پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم دیتا ہے کہ مگر الٹے لٹکے رہنے یا ایسی عبادتوں کو جو جسم کو کچل ڈالتی ہیں