خطبات محمود (جلد 1) — Page 19
۔۱۹ ضرورت ہے۔اسلام نے اس بات کا بھی خوب خیال رکھا ہے۔اسلام کی عیدوں اور دوسرے مذاہب کی عیدوں میں اسی طرح کا فرق ہے۔مثلاً ایک انسان کو بھوک لگے اور بھوک چاہتی ہے کہ پیٹ میں کچھ جائے۔لیکن ایک شخص اس کے متعلق یہ کرے کہ اس بھوکے کو آکھ کے پتے یا تھوہر کے ڈنٹھل کھانے کو دے یا کسی انسان کو جب پیاس لگے تو طبیعت چاہتی ہے کہ کچھ پیئے لیکن ایک شخص اس پیاسے کو گرم کھولتا ہوا پانی یا خون اور پیپ پینے کے لئے دے۔گو اس شخص کے آکھ یا تھو ہر کھانے اور گرم پانی یا خون پینے سے بھی بھوک اور پیاس میں کسی قدر کمی آجائے گی کیونکہ گرم اور گندہ پانی بھی پیاس کو کم کر دیتا ہے۔اسی طرح بھوک کے وقت کچھ کھا لینے سے پیٹ بھر جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جس شخص نے اس بھوکے اور پیاسے کو یہ کچھ کھلایا اور پلایا۔آیا وہ کس قدر دانا اور عظمند ہے؟ اس کی عقلمندی میں ضرور شک پڑ جائے گا کیونکہ اس نے عارضی اور وقتی علاج تو کیا مگر اس کے لئے ہمیشہ کے واسطے تنور جلا دیا ہے۔گندی اور خراب چیز کھانے والا کو عارضی طور پر پیٹ بھر لے گا مگر اس کے اثرات سے جو بیماریاں پیدا ہونگی ان کا اسے نتیجہ نبھگتنا پڑے گا۔اسی طرح گندے اور غلیظ پانی سے کسی قدر پیاس تو کم ہوگی مگر اس کے بعد جو بہت سخت بیماریاں لاحق ہونگی ان کی تکلیف برداشت کرنی پڑے گی۔لیکن ایک اور شخص جو کسی کی بھوک اور پیاس کو دیکھ کر بجائے ان چیزوں کے اس کو طیب غذاؤں اور صاف پانیوں سے سیر کرتا اور پیاس بجھاتا ہے واقعہ میں یہ دانا اور عظمند ہے۔پس یہی فرق ہے دوسرے مذاہب اور اسلام کی عیدوں میں۔انہوں نے انسانی خوشی کے فطرتی تقاضا کو تو سمجھا ہے لیکن اس کو پورا ایسے رنگ میں کیا ہے کہ گو عارضی طور پر وہ ترکیب دل کی آگ بجھانے والی ہے لیکن دراصل دائمی طور پر انسان کو خراب کر دینے والی ہے۔ہاں اسلام نے جو عید کا طریق رکھا ہے وہ عارضی طور پر ہی اس فطرتی تقاضا کو پورا نہیں کرتا بلکہ دائگی اور ہمیشہ کی خوشی اور راحت کے سامان بھی مہیا کر دیتا ہے اور یہی فرق ہے اسلامی عیدوں اور دوسرے مذاہب کی عیدوں میں۔ان کی عیدیں کیا ہوتی ہیں۔یہ کہ خوب ناچ گانا ہو ، بخش اور گندے گیت گائے جائیں، کھانے پینے کی چیزیں ہوں، خرید و فروخت کے سامان ہوں۔لیکن اسلام کی عید یہ ہے کہ آؤ بھئی آج بڑی خوشی کا دن ہے۔ہر روز پانچ نمازیں پڑھا کرتے تھے آج چھ پڑھیں۔خوشی تو یہ ہوئی کہ کہا کپڑے بدلو ، عطر لگاؤ اچھے کھانے پکاؤ اور