خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 176

124 مثلاً دوسرے کی دلجوئی کے خیال سے اپنا کوئی حق چھوڑ دیا جائے۔جیسے رسول کریم میں دل کا حق تھا کہ نابینا کو روک دیتے کہ اس وقت نہ بولو مگر آپ نے یہ حق روک لیا تاکہ دوسرے کا دل میلا نہ ہو۔بعض دفعہ حق بات بھی کڑوی لگتی ہے جیسا کہ کہا گیا ہے۔اَلْحَقُّ مُرُّ ا۔یہ مثال اس بات کی ہے کہ دل میں آئی ہوئی کسی بُری بات کو اگر روک لیا جائے تو وہ نیکی بن جاتی ہے۔یہ نماز سے سبق حاصل ہوتا ہے کہ اس طرح اخلاق کامل ہوتے ہیں۔دوسری چیز یہ ہے کہ کوئی چیز جسم میں داخل نہ ہونے دی جائے۔اس کی مثال جھوٹ استهزاء ، چغلخوری ، غیبت وغیرہ کی باتیں ہیں۔ان کا نہ سنتا نیکی ہوتی ہے کیونکہ ایسی باتیں روحانیت سے عاری کر دیتی ہیں۔غرض ایسے گند ہوتے ہیں جو باہر سے انسان کے اندر داخل ہوتے ہیں اور ان کا داخل نہ ہونا اچھا ہوتا ہے اور بعض گند دل سے پیدا ہوتے ہیں ان کو نہ نکلنے دینا نیکی ہوتی ہے۔پس اخلاق فاضلہ مکمل کرنے کے لئے چاہئے کہ بعض قسم کے گندوں کو باہر نہ نکلنے دیں اور بعض کو اندر نہ داخل ہونے دیں۔اس کے ماتحت ہر مومن کو اپنی زندگی بسر کرنی چاہئے۔بعض لوگوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آجاتا ہے۔بعض کی تو یہ عادت ہوتی ہے اور بعض ایسی عادت بنات لیتے ہیں۔ایسی عادت بنانا تو بہت بُری بات ہے لیکن بعض کو اپنی طبیعت کے لحاظ سے غصہ آجاتا ہے جیسا کہ حضرت عمرہ کی طبیعت جلالی تھی۔باوجود اس کے کہ آپ نے اسلام لانے کے بعد ایسی تبدیلی پیدا کی جو دوسروں کے لئے نمونہ تھی بعض اوقات آپ کی طبیعت میں بے حد جوش پیدا ہو جاتا مگر ایسا جوش دین کے متعلق ہو تا تھا دنیا کی باتوں کے لئے نہ ہو تا تھا اور وہ بھی کبھی کبھی۔ورنہ جاہلیت کے زمانہ میں ان کی جو حالت تھی وہ بالکل اور تھی۔۱۳، اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا تھا کہ جاہلیت کے عمر اور تھے اور اسلام کے عمرؓ اور۔اسلام لانے کے بعد ب کبھی آپ کی طبیعت میں جلال پیدا ہو تا تو وہ رنگ نظر آجاتا ہے۔ایک دفعہ ایک یہودی کا ایک مسلمان سے جھگڑا ہو گیا۔مسلمان نے حضرت عمر کے پاس آکر کہا آپ فیصلہ کر دیں۔آپ کو بھی قاضی مقرر کیا ہوا تھا۔وہ مسلمان منافق تھا اس نے خیال کیا حضرت عمر جو شیلی طبیعت رکھتے ہیں اور مسلمان پرور ہیں وہ ضرور میرے حق میں فیصلہ کریں گے۔یہودی نے اس موقع پر کہا اچھا آپ ہی فیصلہ کر دیں۔مگر یہ شخص محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس گیا تھا اور ان کا فیصلہ اس نے نہیں مانا اب آپ کے پاس آیا ہے۔حضرت عمر نے کہا اچھا۔یہ کہہ کر آپ گھر