خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 175

۱۷۵ میں سے ہی ہے اگر کوئی اسے نکلنے دیتا ہے (اور ہمارے ہاں محاورہ بھی یہی ہے۔مثلاً کہتے ہیں اب تو آپ نے غصہ نکال لیا اب جانے دو۔یعنی گالی گلوچ یا مار پیٹ کے ذریعہ غصہ کا اظہار کر لیا تو وہ اس کے لئے بھی اور دوسرے کے لئے بھی مضر ہو جاتا ہے لیکن اگر اسے دبا لیتا اور روک لیتا ہے تو اس کے لئے نیکی ہوتی ہے۔چنانچہ رسول کریم میں یہ فرماتے ہیں۔اگر کسی کے دل میں کوئی بُرا خیال پیدا ہو مگر اسے روک لے اور اس پر عمل نہ کرے یہ اس کے لئے نیکی ہو جاتی ہے۔کہ غرض قلب کے ایسے حالات ہیں کہ اگر انہیں ظاہر کیا جائے تو طہارت باطل ہو جاتی ہے لیکن اگر دل میں ہی رکھیں تو نیکی بن جاتی ہے۔مثلا کسی کی بُرائی دیکھیں اور اس پر غصہ بھی آئے مگر باوجود اس کے اس کی بڑائی ظاہر نہ کریں تو یہ نیکی ہوگی۔قرآن کریم میں رسول اللہ یا ولی کے متعلق آتا ہے۔عَبَسَ وَ تَوَلَّى أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمى A ایک رقعہ آپ کی مجلس میں ایک نابینا نے ایسی حرکت کی جو ناپسندیدہ تھی اور رسول کریم میں کو ناگوار گذری لیکن آپ نے منہ سے اس پر اظہار ناراضگی نہ فرمایا۔تاکہ نابینا کو بُرا نہ لگے۔وَ تَوَلَّی اور منہ پھیر لیا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہمارے رسول نے ایسے اعلیٰ اخلاق دکھائے کہ ! نے منہ پھیر لیا مگر بات نہ کی تاکہ نابینا کو برا نہ لگے۔بعض نادانوں نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ نَعُوذُ بِاللهِ رسول کریم مال الله قصور ہوا تھا اور خدا تعالیٰ نے آپ کو تنبیہہ کی ہے لے حالانکہ یہاں رسول کریم میں اللہ کے اخلاق کا ذکر ہے۔نابینا شخص نہ دیکھ سکتا تھا کہ اسے ناپسندیدگی کا پتہ لگتا لیکن رسول کریم م نے چہرہ سے بھی ناراضگی کا اظہار نہ ہونے دیا اور نہ زبان سے اسے کچھ کہا صرف اتنا کیا کہ منہ پھیر لیا۔یہ رسول کریم میں دی او لیول کی فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے کہ آپ کو غصہ تو آیا کیونکہ اس نابینا نے ایسی بات کی تھی جو تبلیغ میں روک تھی۔آپ بعض بڑے بڑے لوگوں کو تبلیغ کر رہے تھے کہ اس نے باتیں کرنی شروع کر دیں۔اس سے آپ کو غصہ آیا اور آپ نے اس کی اس حرکت کو ناپسند فرمایا مگر یہ سمجھ کر کہ یہ معذور ہے اور اسے اگر یہ کہا جائے گا کہ خاموش رہو تو سمجھے گا مجھے غریب اور چھوٹا سمجھ کر کہا گیا ہے اس لئے آپ نے منہ سے تو اسے کچھ نہ کہا صرف اس سے اعراض کیا اس کی طرف توجہ نہ کی۔خدا تعالیٰ نے یہ بات مقام مدح میں بیان کی ہے نہ کہ مقام ذتم میں جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے۔للہ غرض جب بُری چیز کو روک لیا جاتا ہے ظاہر نہیں ہونے دیا جاتا تو وہ نیکی ہو جاتی ہے۔