خطبات محمود (جلد 1) — Page 172
۱۷۲ (19) فرموده ۲- مارچ ۱۹۳۰ء بمقام عید گاہ۔قادیان) اسلامی عبادتیں اپنے اندر کئی رنگ کے سبق رکھتی ہیں۔بعض سبق ان کے ایسے ہوتے ہیں جو ان میں سے ہر عبادت سکھاتی ہے اور بعض سبق ان میں سے ایسے ہوتے ہیں کہ ایک سے زیادہ عبادتوں کی نسبت سے پیدا ہوتے ہیں اور بعض سبق ایسے ہیں جو ساری عبادتوں کی مجموعی حالت سے پیدا ہوتے ہیں۔بعینہ اسی طرح جس طرح خدا تعالٰی کے پیدا کردہ عالم میں ہمیں یہ نقشہ نظر آتا ہے کہ اس کا ہر فرد اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے پھر دو افراد مل کر اپنے اندر حقیقت رکھتے ہیں، پھر دو سے زیادہ افراد مل کر ایک حقیقت پیدا کرتے ہیں ، پھر سارا عالم اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے۔انسان کو ہی ہم دیکھتے ہیں ایک مرد ہوتا ہے ایک عورت۔مرد اپنی ذات میں ایک غرض پوری کر رہا ہے اور عورت اپنی ذات میں ایک غرض کو پورا کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔جہاں مرد سے خدا تعالیٰ کی قوت اور قدرت کے جلالی پہلو کا ظہور ہوتا ہے وہاں عورت سے خدا تعالیٰ کے رحم اور شفقت کا ظہور ہوتا ہے۔پھر دونوں مل کر بقا کے ظہور کا موجب ہوتے ہیں کیونکہ اس طرح ان کی نسل چلتی ہے اور ہر مرد بھی اپنے اندر حقیقت رکھتا ہے اور ہر عورت بھی اپنے اندر حقیقت رکھتی ہے پھر مرد و عورت مل کر اپنے اندر ایک حقیقت رکھتے ہیں پھر تمام مرد بھی ایک حقیقت رکھتے ہیں اور تمام عورتیں بھی پھر سارے مرد اور ساری عورتیں مل کر بھی ایک حقیقت رکھتے ہیں۔پھر سارے کے سارے مرد اور ساری کی ساری عورتیں بھی ساری دنیا سے مل کر ایک حقیقت رکھتی ہے پھر ساری دنیا بھی ایک حقیقت رکھتی ہے۔پس جس طرح ہر ایک فرد کے ذریعہ افراد کے مجموعہ کے ذریعہ افراد کی اقسام کے ذریعہ اور افراد کے سارے مجموعہ کے ذریعہ علیحدہ علیحدہ حقیقت پیدا ہوتی ہے اور سب کے مجموعہ سے بھی یہی حال عبادتوں کا ہے اور جس طرح قانون قدرت میں ایک ترتیب اور ربط پایا جاتا ہے قانون شریعت میں بھی ایک ترتیب اور ربط موجود ہے۔مگر یہ بات صرف شریعت اسلامیہ کو ہی حاصل ہے باقی شرائع میں نہیں۔ان میں بھی نماز، روزہ، حج، زکوۃ کی قسم