خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 144

۱۴۴ آپ کی زندگی میں بھی ایسا آتا ہو تا تو میں آپ کو اس کی روٹی پکا کر کھلاتی۔حملہ اس سے ظاہر ہے کہ رسول کریم میل و یا لیلی کی جدائی کی وجہ سے تھے حلق میں پھنستے کھانا نہ کھایا جاتا مگر پھر بھی حضرت عائشہ ان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمہیں چالیس سال تک زندہ رہیں۔۱۸ اسی طرح حضرت ابو بکر جو رسول کریم میں اور کے ایک ایک اشارہ سے نتیجہ اخذ کرنے والے تھے اور جب رسول کریم می لی لی نے فرمایا یہ کیسی مبارک ۱۹ سورۃ نازل ہوئی ہے کہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ اَفَوَاجًا فَسَبِّحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا تو صحابہ بہت خوش ہوئے مگر حضرت ابو بکر رو پڑے۔لوگوں نے پوچھا آپ کو کیا ہو گیا۔خدا کا رسول " خوشی اور فتح کی خبر دیتا ہے اور آپ رو رہے ہیں۔انہوں نے کہا تم نہیں جانتے۔خدا کے رسول اسی وقت تک دنیا میں رہتے ہیں جب تک ان کا کام ہو تا ہے اگر فتح آگئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کریم ملی دیوی کی وفات کا زمانہ بھی آگیا۔۲۰ رسول کریم م ل ل ل ل لو و فوت ہو گئے۔اس اور حضرت ابو بکر کی جان ساتھ نہ نکل گئی۔گو وہ موت کو زندگی سے بہتر سمجھتے تھے مگر یہ حالت ان کو مار نہ سکی۔پھر حضرت عمرہ کا کیا حال ہو ا ر سول کریم ملی ا للہ کی وفات پر۔۲۲ مگر کیا وہ آپ کے ساتھ مر گئے۔مرے نہیں تھے بلکہ ایک عرصہ تک بعد میں زندہ رہے اور جو کام ان کے لئے مقدر تھا وہ کر کے فوت ہوئے۔۲۳ تو خواہ کسی کو کسی سے کتنی محبت ہو ساتھ مرتا نہیں اور خدا تعالیٰ کا قانون جدائی ڈال دیتا ہے جو برداشت کرنی پڑتی ہے۔اب اس زمانہ میں ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا۔آپ کے دیکھنے والوں کو آپ سے جو محبت تھی اس کا اندازہ وہ لوگ نہیں کر سکتے جو بعد میں آئے۔یا جن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں عمر چھوٹی تھی مگر مجھے خدا تعالیٰ نے ایسا دل دیا تھا کہ میں بچپن سے ہی ان باتوں کی طرف متوجہ تھا۔میں نے ان لوگوں کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت کا اندازہ لگایا ہے جو آپ کی صحبت میں رہے۔میں نے سالہا سال ان کے متعلق دیکھا کہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جدائی کی وجہ سے اپنی زندگی میں کوئی لطف محسوس نہ ہو تا تھا اور دنیا میں کوئی رونق نظر نہیں آتی تھی۔حضرت خلیفہ اول جن کے حوصلہ کے متعلق جو لوگ واقف ہیں جانتے ہیں کہ کتنا مضبوط اور قوی تھا وہ